امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طارق رحمان اور بی این پی کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر امریکی صدر کے خط کی تفصیلات جاری کیں، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے طارق رحمان کے کامیاب دور حکومت کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔

خط میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور بنگلہ دیش کے تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، جبکہ آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک کے فروغ کا مشترکہ مقصد دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری تجارتی معاہدے مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے اور اس سے دونوں ممالک کے کسانوں اور محنت کشوں کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو مبارکباد

ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی تعاون کے حوالے سے بھی بنگلہ دیش کو باقاعدہ فوجی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اقدامات کرنے کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اس تعاون سے بنگلہ دیش کی مسلح افواج کو امریکا میں تیار کردہ جدید دفاعی سازوسامان تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے گی۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ وزیراعظم طارق رحمان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کو مزید خوشحال اور محفوظ بنانے کے خواہاں ہیں، جبکہ انہوں نے بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر برینٹ کرسٹینسن پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور ڈھاکہ کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی توقع کی جارہی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بنگلہ دیش ڈونلڈ ٹرمپ طارق رحمان مبارکباد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ممالک کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بنگلہ دیش کو مزید

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل