جنوبی کوریا میں مارشل لا لگانے والے صدر کو بغاوت کے جرم میں عمر قید
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیئول (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو بغاوت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر یون سک یول نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر یون سک یول نے آئینی نظام کو مفلوج کرنے کی دانستہ کوشش کرتے ہوئے فوج کو پارلیمنٹ بھیجا تاکہ قومی اسمبلی کو کام کرنے سے روکا جا سکے۔عدالت نے مزید کہا کہ صدر نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کی جس سے ملک کو شدید سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر یون سک یول کی فوجی بغاوت کی قیادت کی اور انہوں نے سماعت کے دوران کسی بھی وقت اپنے کیے پر ندامت ظاہر نہیں کی گئی۔سابق صدر یْون سک یول نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا اختیار حاصل تھا اور یہ فیصلہ اپوزیشن کی رکاوٹوں کو روکنے کے لیے کیا گیا۔تاہم عدالت نے ان کی یہ دلیل مسترد کر دی اور عمر قید کی سزا سنائی حالانکہ استغاثہ نے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ جنوبی کوریا کے سابق صدر یون اس وقت سیئول ڈیٹینشن سینٹر میں قید ہیں۔ ان کے وکلا نے فیصلے کو پہلے سے لکھا ہوا اسکرپٹ قرار دیتے ہوئے اپیل کا عندیہ دیا ہے۔خیال رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو اْس وقت کے صدر یْون سک یول نے جنوبی کوریا میں اچانک مارشل لا نافذ کردیا تھا۔البتہ چند گھنٹوں بعد ہی شدید عوامی احتجاج اور پارلیمنٹ کے ووٹ کے بعد مارشل لا ختم کردیا گیا تھا اور صدر کے مواخذے کا عمل شروع کیا گیا۔اس طرح 2025 میں قومی اسمبلی نے صدر یْون سک یول کے مواخذے کے نتیجے میں انہیں صدر کر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔بعد ازاں سابق صدر کو حراست میں لیا گیا اور مختلف مقدمات جن میں بغاوت بھی شامل ہے، شروع کیے گئے۔رواں برس کے آغاز میں ہی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کے مقدمے میں 5 سال قید کی سزا پہلے ہی سنائی جا چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر یون سک یول جنوبی کوریا سک یول نے مارشل لا
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :