سپریم کورٹ: لڑکی سے زیادتی اور جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرنے والے شخص پر 10 لاکھ روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
فائل فوٹو :سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے لڑکی سے زیادتی اور جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرنے والے شخص پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محمد شہزاد کی اپیل خارج کر دی۔
عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ درخواست گزار نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اسے شرعی نکاح کا رنگ دینے کی کوشش کی، وہ پہلے سے شادی شدہ ہے، قانونی بیوی متاثرہ لڑکی کی سگی پھوپھی ہے، پھوپھی کی موجودگی میں اس کی سگی بھتیجی سے نکاح قانونی طور پر جائز نہیں ہوسکتا۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پٹیشنر نے قانونی رکاوٹ سے بچنے کے لیے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کا من گھڑت دعویٰ کیا، اور انسانیت سوز فعل کو چھپانے کےلیے جھوٹی کہانی گھڑی، جس کا کوئی قانونی ثبوت نہیں۔
عدالت نے پٹیشنر کو متاثرہ خاتون سے پیدا ہونے والے بچے کا حیاتیاتی والد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نکاح ثابت نہ ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد اپنے بچے کو نان و نفقہ دینے کا قانونی اور اخلاقی پابند ہے، معصوم بچے کو والدین کے غیر قانونی تعلق یا تنازعات کے باعث بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
پٹیشنر نے عدالتی عمل کو خاتون کو ہراساں کرنے اور اخلاقی طور پر دبانے کے لیے بطور آلہ استعمال کیا، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر انسان کے وقار کی حرمت ناقابلِ تسخیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز