حیدر آباد کو بجٹ نہ ملنا ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے ، سلیم میمن
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد( کامرس ڈیسک) صدر حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری محمد سلیم میمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجٹ سازی اور وسائل کی تقسیم کا نظام اب بھی بڑی حد تک پرانی مردم شماری، مفروضوں اور غیر مستند اعدادوشمار پر مبنی ہے، جس کے باعث ترقیاتی اسکیمیں اور بنیادی سہولیات ایسے ڈیٹا پر مختص کی جا رہی ہیں جو زمینی حقائق کی درست نمائندگی نہیں کرتا، اور اس کا سب سے زیادہ نقصان شہری علاقوں کو ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد جیسے صنعتی اور تجارتی شہر کی اصل آبادی سرکاری ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں کی ایک بڑی آبادی روزگار کی تلاش میں مستقل طور پر شہروں میں رہائش پذیر ہے، لیکن ان کے ڈومیسائل دیہی علاقوں کے ہونے کے باعث وہ بجٹ کے شہری اعدادوشمار میں شامل نہیں ہوتے، حالانکہ وہ تمام شہری سہولیات استعمال کر رہے ہوتے ہیں، جس سے شہری وسائل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں، بالخصوص حیدرآباد، کو بجٹ میں ان کی اصل آبادی اور قومی معیشت میں کردار کے مطابق وسائل نہ ملنا ایک اہم پالیسی چیلنج ہے، جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ شہری مسائل کے حل اور متوازن ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، محمد اورنگزیب، کو ایک جامع اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے، جس میں بجٹ سازی اور قومی پالیسی سازی میں مستند، حقیقی اور زمینی حقائق پر مبنی ڈیٹا کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔محمد سلیم میمن نے کہا کہ ملک میں بجٹ سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی اس وقت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے جب اسے درست مردم شماری، حقیقی شہری آبادی، زرعی سرگرمیوں، زمین کے استعمال اور معاشی حقائق پر مبنی ڈیٹا کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ حالیہ ڈیجیٹل مردم شماری اور زرعی مردم شماری مثبت اقدامات ہیں، تاہم شہری آبادی اور وسائل کی ضروریات کے حوالے سے ڈیٹا کو مزید جامع اور درست بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری مراکز، خصوصاً حیدرآباد، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، صنعت، تجارت اور خدمات کے شعبوں کے باعث قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، مگر بجٹ میں انہیں اکثر ان کی اصل ضروریات کے مطابق وسائل فراہم نہیں کیے جاتے، جس سے بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔صدر چیمبر نے مزید کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی آنے والے برسوں میں پاکستان کی معیشت، خوراک، پانی، توانائی، صحت اور شہری نظام کے لیے بڑے چیلنجز ثابت ہوں گے، اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بجٹ سازی اور قومی منصوبہ بندی کو مستقبل بینی، سائنسی بنیادوں اور درست ڈیٹا پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بجٹ سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی جیسے GPS، GIS، سیٹلائٹ ڈیٹا، ریموٹ سینسنگ اور ریئل ٹائم فیلڈ سرویز کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے، تاکہ وسائل کی تقسیم زیادہ شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنائی جا سکے۔ سلیم میمن نے کہا کہ انہوں نے اپنے خط میں ایک جامع قومی ڈیٹا فریم ورک اور آزاد ڈیٹا ویریفکیشن نظام کے قیام کی بھی تجویز دی ہے، تاکہ تمام شعبوں میں پالیسی فیصلے درست معلومات کی بنیاد پر کیے جا سکیں اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ شہری علاقوں، بالخصوص سندھ کے بڑے شہروں جیسے حیدرآباد، کو ان کی اصل آبادی، معاشی کردار اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق جائز وسائل فراہم کریں، تاکہ متوازن ترقی، بہتر عوامی خدمات اور پائیدار معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجٹ سازی اور سلیم میمن نے کہا کہ انہوں نے کی اصل جا سکے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔