ریپڈ سپورٹ فورسزالفاشر میں نسل کشی کررہی ہیں ‘ اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے جمعرات کے روز سوڈان کے شہر الفاشر میں نسل کشی کے واقعات کی مذمت کی، جہاں اکتوبر گزشتہ سال میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد کئی مظالم پیش آئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ غیر عرب کمیونٹیز کے افراد کے قتل کے واقعات اور دیگر مظالم میں نسل کشی کے آثار نمایاں ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے افراد کو نسلی، جنسی اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر منظم اور بار بار نشانہ بنایا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان جرائم میں نسلی بنیاد پر قتل، جنسی تشدد، تباہی اور کھلے عام ایسے بیانات شامل تھے ،جو غیر عرب کمیونٹیز، خاص طور پر زغاوا اور فور کے خلاف نسل کشی کی ترویج کرتے تھے۔ 26 اکتوبر 2025 ء کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے 18 ماہ کے محاصرے کے بعد الفاشر پر قبضہ کیاتھا ۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے حال ہی میں اندازہ لگایا کہ حملے کے پہلے 3دنوں میں کم از کم 4400 افراد ہلاک ہوئے اور فرار کے دوران مزید 1600 افراد جان سے گئے، جبکہ اصل تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔نومبر کے سط میں ان واقعات کے لیے مختص ایک خصوصی اجلاس کے بعد حقوق انسانی کونسل نے اقوام متحدہ کی آزاد حقیقت جانچ مشن کو تحقیقات کے لیے ہدایات جاری کیں۔ رپورٹ کے نتائج میں کہا گیا کہ ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ متاثر ہ علاقے میں کیے گئے 3اقدامات کو نسل کشی تصور کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں مشن کے سربراہ محمد شانڈی عثمان نے کہاکہ عملیات کا دائرہ اس کی ہم آہنگی اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے سینئر حکام کی کھلی حمایت ظاہر کرتی ہے کہ الفاشر اور اس کے آس پاس کیے گئے جرائم منفرد جنگی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ تھیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے کئی ذیلی اداروں کا مشترکہ امدادی قافلہ سوڈان کی ریاست کردفان کے اہم شہروں ڈلنگ اور کادگلی پہنچ گیا جہاں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد متاثرین کو ہنگامی امداد فراہم کی جائے گی۔عالمی ادارے کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ قافلہ ورلڈ فوڈ پروگرام،یونیسکو اور یواین ڈویلپمنٹ پروگرام کی جانب سے فراہم کی جانے والی انسانی ہمدردی کی امداد پر مشتمل ہے، یہ گزشتہ 3ماہ کے دوران علاقے میں پہلی بڑی امدادی ترسیل ہے جس سے ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 ٹرکوں پر مشتمل قافلے کے ذریعے 700 میٹرک ٹن سے زائد خوراک اور 70 میٹرک ٹن طبی سامان پہنچایا گیا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر مکنہ واکر کے مطابق کئی ہفتوں کی تاخیر اور دشوار گزار متبادل راستے اختیار کرنے کے بعد امدادی سامان بالآخر متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکا۔ سوڈان میں یونیسیف کے نمائندے شیلڈن ییٹ نے کہا کہ اس امداد سے شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج جاری رکھنے، صاف پانی، صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات کی بحالی میں مدد ملے گی۔بیان میں فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور ضرورت مند شہریوں تک امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائیں۔واضح رہے کہ کادگلی اور ڈلنگ گزشتہ 2برس سے زائد عرصے تک امداد سے محروم رہے جس کے باعث ضروری اشیائے خورد و نوش اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریپڈ سپورٹ فورسز اقوام متحدہ کہا گیا گیا کہ کے بعد
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔