افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تراویح کی رکعات
تراویح کی رکعات کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن پر مدت دراز کے جھگڑوں اور مناظروں نے فریقین کو بے انتہا ذکی الحس بنادیا ہے۔ اسی وجہ سے آٹھ رکعت یا بیس رکعت کا لفظ کسی کی زبان سے نکلتے ہی کوئی ایک گروہ اس پر آستینیں چڑھالیتا ہے اور چیلنج بازی شروع کردیا ہے۔ مذکورہ بالا سوال اسی کیفیت کا نتیجہ ہے حالانکہ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس پر اتنے جھگڑوں کی کوئی حاجت ہو۔ اگر کسی کے نزدیک آٹھ رکعت ہی ثابت ہوں تو وہ آٹھ پڑھے اور خواہ مخواہ بیس رکعت کو بدعت قرار دینے پر اپنا زور صرف نہ کرے اور اگر کسی کے نزدیک 20 رکعت ہی ثابت ہوں تو وہ بیس پڑھے اور آٹھ رکعت پڑھنے والوں کی مخالفت میں وقت ضائع نہ کرتا رہے۔ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو اس سے بدرجہا زیادہ اہم مسائل درپیش ہیں جو ہماری توجہ اور محنت اور اوقات اور اموال کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر ان مسائل پر جھگڑے اور بحثیں کرنے میں سارا زور لگادینا خدا کے دین کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔
محترم سائل نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ رکعت سے زائد پڑھنا خلاف سنت نبویؐ ہے اور اس دعویٰ کی بنیاد انہوں نے اس بات پر رکھی ہے کہ نبیؐ نے تراویح میں آٹھ ہی رکعت پڑھی ہیں۔ حالانکہ اگر اس بنیاد پر آٹھ رکعت سے زائد پڑھنے والے کو خلاف سنت کہنا درست ہو تو پھر تمام عمر میں تراویح صرف تین مرتبہ ہی جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہیے اور اس سے زائد پڑھنے کو بھی خلاف سنت قرار دیا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ حضورؐ نے باجماعت تراویح صرف اسی حد تک ثابت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر معاملے میں حضرت عمرؓ کا اجتہاد کہ ہر رمضان میں بالالتزام تمام مساجد میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے، آپ نے قبول فرمالیا اور اسے خلاف سنت قرار نہیں دیا تو آخر تراویح کے لیے 20 رکعت مقرر کرنے کے بارے میں ان کا اجتہاد کس دلیل سے خلاف سنت ہوگیا؟
سائل فاضل کی یہ کوشش کہ حضرت عمرؓ نے 20 رکعات کے ثبوت ہی میں سرے سے شک پیدا کردیا جائے اور حقیقت مکابرہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات قریب قریب یقینی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے تراویح کے لیے 20 رکعات مقرر کی تھیں۔ صحابہ کرامؓ نے اسے قبول کیا اور ان کے بعد بھی خلفا اور صحابہ کرامؓ کا یہی عمل رہا۔ ترمذی کا بیان ہے:
’’اکثر اہل علم اسی مسلک پر ہیں جو حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی ہے۔ یعنی 20 رکعت‘‘۔
محمد بن نصر المروزی نے حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہی عمل نقل کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اسے حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابی بن کعبؓ اور متعدد دوسرے صحابہ کا اثر بتایا ہے۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ جمہور علماء بیس رکعت ہی کے قائل ہیں اور صحابہ سے اس بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہوا ہے۔ المغنی میں ابن قدامہ لکھتے ہیں:
’’احمد بن حنبل کے نزدیک تراویح کے معاملے میں بیس رکعت ہی کا مسلک مرجع ہے اور اسی کے قائل سفیان سوری اور ابوحنیفہ اور شافعی ہیں مگر امام مالک 36 رکعت کے قائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ قدیم سے اسی پر عمل چلا آرہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا استدلال یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب متفرق طور پر تراویح پڑھنے والے تمام لوگوں کو ابن بن کعبؓ کی امامت میں جمع کیا تو حضرت ابی بیس رکعتیں پڑھاتے تھے۔ اور حضرت علیؓ سے یہی ثابت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھانے پر مامور کیا تھا۔ یہ عمل قریب قریب اجماع کا ہم معنی ہے۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ بعد میں تمام اہل مدینہ 36 رکعت تراویح پڑھنے لگے تھے تب بھی جو کچھ حضرت عمرؓ نے کیا تھا اور جس پر صحابہؓ ان کے زمانے میں متفق ہوگئے تھے۔ اسی کی پیروی کرنا بہتر ہے۔
اس کے مقابلے میں محترم سائل کا تمام تر اعتماد صرف اس روایت پر ہے جو امام مالک نے موطا میں سائب بن یزید سے نقل کی ہے اور جس میں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے وتر سمیت گیارہ رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس سلسلے میں تین باتیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ اسی موطا میں امام مالک بن یزید بن رومان کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ:
حضرت عمرؓ نے وتر سمیت 23 رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ مگر محترم سائل نے اس روایت کو نظرانداز کردیا۔ دوم یہ کہ وہی سائب بن یزید جن سے امام مالک گیارہ رکعت کی روایت نقل کرتے ہیں، ان سے ایک دوسری روایت بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ 23 رکعت کے حق میں نقل کی ہے اور اس سے گمان ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے پہلے اگر گیارہ رکعتیں مقرر کی بھی تھیں تو بعد میں ان کو 23 رکعت سے بدل دیا ہوگا۔ سوم یہ کہ امام مالک خود ان دونوں روایتوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ 36 رکعتوں کے حق میں اس بنا پر فیصلہ دیتے ہیں کہ مدینے میں ایک صدی سے زیادہ مدت سے تین رکعت وتر اور 36 رکعت تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج تھا۔ سیوطی المصابیح میں کچھ چاہیں کہیں مگر فقہائے مالکیہ اپنے امام کا یہی قول صحیح مانتے ہیں۔
ان امور پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے اگرچہ نبیؐ نے آٹھ رکعتیں ہی پڑھی ہیں لیکن صحابہ کرامؓ اور تابعین نے بالعموم حضورؐ کے اس فعل کا مطلب یہ نہیں لیا ہے کہ آٹھ رکعت پڑھنا ہی سنت ہے اور اس سے زائد پڑھنا خلاف سنت یا بدعت ہے۔ آخر یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اور آئمہ مجتہدین سنت اور بدعت کے درمیان تمیز کرنے کی اہلیت سے اس درجہ محروم تھے یا جان بوجھ کر وہ سنت کو چھوڑ کر ایک بدعت کو اختیار کرسکتے تھے؟
بہرحال اگر کوئی شخص حضورؐ کے اس فعل کو اس معنی میں لیتا ہو تو آپؐ کا منشاء آٹھ رکعت ہی کو سنت کی حیثیت سے جاری کرنے کا تھا تو وہ شوق سے اس پر عمل کریں اور جو اس معاملے میں اس کے ہم خیال ہوں وہ اس کی پیروی کریں لیکن بیس رکعت کے دلائل اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اسے خلاف سنت قرار دینا اتنا آسان جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ مئی 1962)
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ حضرت عمر امام مالک ہے اور اس ا ٹھ رکعت خلاف سنت رکعت ہی ہے کہ ا ہیں کہ
پڑھیں:
حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔ جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی