data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انسان کے خالقِ حقیقی نے اُس کی مادّی ضروریات کی تکمیل کا سامان کیا ہے، اس طرح اُس نے انسان کے معنوی وجود کی ضروریات کی بھی تکمیل کی ہے۔ انسان کے معنوی وجود کی سب سے بڑی ضرورت ’’ہدایت‘‘ ہے۔ یہ ہدایت صرف اس علیم و خبیر ہستی سے حاصل ہوسکتی ہے جس کا علم مکمل اور بے عیب ہے اور جو ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے۔ یہ ہستی صرف خالقِ کائنات کی ہے۔ اس لیے اُس نے اعلان کیا ہے کہ انسان کو ہدایت دینا ہمارے ذمہ ہے۔
’’بے شک ہدایت دینا ہمارے ذمّے ہے‘‘ (الیل: 12)۔
اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت ہر زمانے میں آتی رہی ہے اور اس وقت قرآن مجید کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے:
’’الف لام میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے اُن پرہیزگار لوگوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے، (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں اُن سب ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘ (البقرۃ: 1-5)۔
سورہ آلِ عمران میں کہا گیا:
’’الف، لام، میم۔ اللہ وہ زندہ وجاوید ہستی ہے جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اے نبی! اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے) اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کردیں اُن کو یقینا سخت سزا ملے گی۔ اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے‘‘۔
کتابِ ہدایت ہونے کی بنا پر قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر حق کے متلاشیوں کو سلامتی کے راستے بتاتا ہے اور اللہ کی رضا کے طالبین کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے:
’’اے اہلِ کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتابِ الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن سے تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے، تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو، جو اُس کی رضا کے طالب ہیں، سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اِذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے‘‘ (المائدۃ: 14-15)۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔