جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی شاندار کامیابی کا مفہوم
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260220-03-5
اقبال نے کہا ہے
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
بنگلا دیش کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی اقبال کے اس شعر کا ٹھوس ثبوت ہے۔ جماعت اسلامی کے انتخابی اتحاد نے 299 میں سے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان نشستوں میں جماعت اسلامی کی انفرادی نشستوں کی تعداد 68 ہے۔ لیکن یہ تعداد جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کی ’’پوری تصویر‘‘ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کی پوری تصویر یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے 1991ء کے انتخابات میں 18، 2001ء کے انتخابات میں 17 اور 2008ء کے انتخابات میں صرف 2 نشستیں حاصل کی تھیں مگر اس بار اس کی نشستوں کی تعداد 68 ہے جبکہ جماعت اسلامی نے 32 نشستوں کے انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دے کر الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ہے۔ ان نشستوں پر کہیں جماعت اسلامی صرف 2 ہزار ووٹوں سے ہاری ہے۔ کہیں اسے4000 ووٹوں سے شکست ہوئی ہے۔ ان نشستوں پر دھاندلی نہ ہوتی تو جماعت اسلامی کی کامیابی اور بھی شاندار ہوسکتی تھی۔ حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس نے کُل ووٹوں کا 40 فی صد حاصل کیا ہے جو 3 کروڑ ووٹوں سے زیادہ ہے۔ بنگلا دیش میں سینیٹ کا ادارہ موجود نہیں مگر اب اسے تخلیق کیا جارہا ہے۔ اس ادارے میں سیاسی جماعتوں کو ان نشستوں کے اعتبار سے نہیں بلکہ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے گی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ بنگلا دیش کی سینیٹ کی 40 فی صد نشستیں جماعت اسلامی کے پاس ہوں گی۔ پاکستان میں جماعت اسلامی قاضی حسین احمد اور پروفیسر خورشید کو دیکھ کر خوش ہوتی تھی اس لیے کہ یہ دو بھی پچاس سینیٹروں کے برابر تھے مگر بنگلا دیش کی سینیٹ کا تو 40 فی صد جماعت اسلامی پر مشتمل ہوگا۔ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اسے نہ بنگلا دیشی فوج کی حمایت حاصل تھی نہ امریکا یا اس جیسی کوئی طاقت جماعت اسلامی کی پشت پر موجود تھی۔ یہاں تک کہ بنگلا دیش کے ذرائع ابلاغ پر بھی سیکولر لوگوں کا غلبہ ہے۔ اس کے برعکس بی این پی کو بنگلا دیشی فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بی این پی کے رہنما طارق رحمن 17 سال سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ ان پر بنگلا دیش میں بدعنوانی کے مقدمات چل رہے تھے مگر جیسے ہی انہیں بنگلا دیشی فوج کا اشارہ ملا وہ بنگلا دیش آگئے۔ طارق رحمن امریکا کے لیے کتنے قابل قبول ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد طارق رحمن نے پہلی ملاقات بنگلا دیش میں امریکا کے سفیر سے کی ہے۔ بنگلا دیش میں عوامی لیگ پر پابندی ہے اور اس نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا مگر عوامی لیگ انتخابات اور اس کے نتائج سے لاتعلق نہیں تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عوامی لیگ کے حمایتیوں نے جماعت اسلامی کا راستہ روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر بی این پی کو ووٹ ڈالے ہیں۔ اس کے بغیر بنگلا دیش کے انتخابات میں رائے دہندگی کی شرح 60 فی صد نہیں ہوسکتی تھی۔
جماعت اسلامی بنگلا دیش کی اس شاندار انتخابی کامیابی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اس لیے کہ جماعت اسلامی ڈیڑھ دہائی سے ایک ’’معتوب جماعت‘‘ تھی۔ اس کے رہنمائوں کو پھانسیاں دی گئی تھیں، اس کے رہنمائوں اور کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کے لیے کھلی فضا میں سیاسی کام کرنا ناممکن بنادیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کو ایک ’’سیاسی گالی‘‘ میں ڈھال دیا گیا تھا مگر جیسے ہی سازگار حالات پیدا ہوئے جماعت اسلامی اس طرح سامنے آئی جیسے وہ کہیں گئی ہی نہیں تھی بلکہ اس کے جوش اور ولولے میں پہلے سے زیادہ توانائی اور شدت دیکھی گئی مگر جماعت اسلامی کی شاندار انتخابی کامیابی صرف جماعت اسلامی کی خوبی اور خوبصورتی نہیں۔ اس میں بنگلا دیش کے معاشرے کی خوبی اور خوبصورتی بھی شامل ہے۔
جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے جماعت اسلامی نے 1971ء کے بحران میں پاک فوج کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ جماعت اسلامی نے البدر اور الشمس بنائی تھیں جو عوامی دائرے میں پاک فوج کے لیے کام کررہی تھیں۔ چنانچہ جماعت اسلامی پر ’’اینٹی بنگلا دیش‘‘ ہونے کی مہر لگ گئی۔ بنگلا دیش وجود میں آیا تو مکتی باہنی نے چُن چُن کر البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو قتل کیا۔ اس فضا میں ایسا محسوس ہوا کہ اب جماعت اسلامی کا کبھی بنگلا دیش میں کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ بنگلا دیش مخالف جماعت کبھی بنگلا دیش کے معاشرے میں قبولیت عامہ حاصل نہیں کرپائے گی۔ لیکن جیسا کہ مولانا ظفر علی خان نے کہا ہے۔
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
چنانچہ جماعت اسلامی نے حالات تھوڑے سے سازگار ہوتے ہی دوبارہ کام شروع کردیا اور بنگلا دیش کے عوام کی ایک چھوٹی سی تعداد نے اسے قبول کرنا شروع کردیا۔ 1991ء سے 2008ء تک تین انتخابات میں حصہ لیا اور اس نے 1991ء کے انتخابات میں 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اس کے دو وزیر بی این پی کی حکومت میں جماعت کی نمائندگی کرتے رہے۔ لیکن 15 سال پہلے شیخ حسینہ واجد نے جماعت اسلامی پر ظلم کی انتہا کردی اور اس ظلم سے ایسا محسوس ہوا کہ جماعت اسلامی اب کبھی اُبھر نہیں سکے گی۔ لیکن شیخ حسینہ واجد کے رخصت ہونے کے بعد جماعت اسلامی نہ صرف یہ کہ اُبھر کے سامنے آگئی بلکہ اس نے بنگلا دیش کی قومی اسمبلی کی 68 نشستوں پر کامیابی بھی حاصل کرلی۔ جماعت اسلامی نے 32 نشستوں پر انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے اگر بنگلا دیش کی اسٹیبلشمنٹ نے ایمانداری برتی اور ان نشستوں کا فیصلہ جماعت اسلامی کے حق میں ہوگیا تو بنگلا دیش کی قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پاس 100 نشستیں ہوں گی۔ یہ نشستیں ایک طرف جماعت اسلامی کا ’’کمال‘‘ ہوں گی اور دوسری طرف بنگلا دیش کے معاشرے کا ’’جمال‘‘ ہوں گی۔ ویسے یہ ’’کمال‘‘ اور یہ ’’جمال‘‘ تو اس وقت بھی موجود ہے۔
مسلم بنگلال کے مزاج میں دو چیزیں ہمیشہ سے موجود ہیں۔ ایک ’’حق کی قبولیت‘‘ اور دوسرے ظلم و جبر کی مزاحمت۔ تاریخ شاہد ہے کہ انگریزوں کے ظلم و جبر اور استبداد کی مزاحمت برصغیر کے صرف چار خطوں کے مسلمانوں نے کی یعنی بنگال، دکن، دلّی اور یوپی کے مسلمانوں نے۔ بنگال میں سراج الدولہ نے انگریزوں کی مزاحمت کی اور حق کا پرچم سربلند کیا، مگر میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کرتے ہوئے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ چنانچہ سراج الدولہ کی مزاحمت ناکام ہوگئی۔ دکن میں ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف حق کا پرچم بلند کیا اور ان کے استبداد کو للکارا۔ مگر میر صادق نے ٹیپو سے غداری کی اور ٹیپو کی مزاحمت ناکام ہوگئی۔ چنانچہ اقبال کو کہنا پڑا۔
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملت، ننگ دیں، ننگِ وطن
دلّی اور یوپی کے مسلمانوں نے انگریزوں کی بے مثال مزاحمت کی اور اس مزاحمت کے روحِ رواں جنرل بخت خان نے بہادر شاہ ظفر کو بہت سمجھایا کہ وہ قلعے سے نکل کر مزاحمت کی قیادت کریں مگر بہادر شاہ ظفر کو اس کے بزدل وزیروں اور مشیروں نے قلعے سے نکلنے نہ دیا۔ اس طرح دلّی اور یوپی کی مزاحمت بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ جہاں تک پنجاب، کے پی کے، سندھ اور بلوچستان کا تعلق ہے تو یہ جبر و استبداد کی مزاحمت کے حوالے سے ’’زندہ مُردوں‘‘ کے قبرستان ہیں۔ ان خطوں کے مسلمانوں نے نہ کبھی انگریزوں کی مزاحمت کی، نہ فوجی آمریتوں کو کبھی للکارا۔ بنگال کے مزاج میں چونکہ مزاحمت ہے اس لیے اس نے ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمن کو بھی نہ بخشا اور اس کے پورے خانوادے کو قتل کردیا۔ صرف شیخ حسینہ واجد زندہ بچیں۔ اس لیے کہ اس وقت وہ ملک میں نہیں تھیں۔ شیخ حسینہ واجد کا خیال تھا کہ وہ چاہے بنگلا دیشیوں پر کتنا ہی ظلم کرلیں انہیں روکنے والا کوئی نہیں مگر بنگال کی مزاحمتی روح بیدار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شیخ حسینہ واجد کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ مغربی پاکستان کے جرنیلوں نے 1971ء میں انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا تو بنگالیوں نے پاکستان کے جرنیلوں کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ بنگال کے مزاج میں مزاحمت نہ ہوتی تو شیخ حسینہ واجد آج بھی بنگلا دیش کی وزیراعظم ہوتیں۔ بھارت نے بنگلا دیش کی تخلیق میں مرکزی کردار ادا کیا تھا مگر بھارت نے بنگلا دیش کو اپنی کالونی بنایا تو بنگلا دیش کے عوام کی عظیم اکثریت بھارت کے بھی خلاف ہوگئی اور وہ پاکستان کی طرف دیکھنے لگی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کی شاندار انتخابی کامیابی کا ایک مفہوم یہ ہے کہ بنگلا دیش کے عوام کی بڑی تعداد نے جماعت اسلامی کے ماضی کو یکسر فراموش کرکے اسے دل و جان سے قبول کرلیا ہے اور اب جماعت اسلامی بنگلا دیش کی ایک بہت بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔ ایسی قوت جس کی پشت پر ووٹ کی طاقت بھی ہے۔ یہ تجربہ ہمارے سامنے ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اپنے ایک انٹرویو میں فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ذرا سی تنقید کردی تھی تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سید منور حسن کے پیچھے پڑ گئی اور ان کے منظر سے ہٹنے تک چین سے نہیں بیٹھی۔ الطاف حسین ہزاروں لوگوں کو مروا رہا تھا تو پاکستانی جرنیلوں کو کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن الطاف حسین نے جرنیلوں کو گالیاں دینی شروع کیں تو اس کی سیاست ختم کردی گئی۔ عمران خان کو جرنیل ہی لائے تھے مگر انہوں نے جرنیلوں پر تنقید شروع کی تو 2024ء کا پورا الیکشن ہی اغوا کرلیا گیا اور عمران خان جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ مگر جماعت اسلامی بنگلا دیش 1971ء میں بنگلا دیش کے خلاف کردار ادا کرنے کے باوجود آج ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی جماعت اسلامی بنگلا دیش اسلامی بنگلا دیش کی میں جماعت اسلامی کی کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے کہ جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے شیخ حسینہ واجد کے مسلمانوں نے بنگلا دیش میں بنگلا دیش کے کہ بنگلا دیش کی مزاحمت مزاحمت کی نشستوں پر ان نشستوں اس لیے کہ بی این پی نہیں تھی یہ ہے کہ حاصل کی کے لیے ہوں گی کی اور اور اس
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔