Jasarat News:
2026-07-24@04:45:02 GMT

جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی شاندار کامیابی کا مفہوم

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260220-03-5
اقبال نے کہا ہے

جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

بنگلا دیش کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی اقبال کے اس شعر کا ٹھوس ثبوت ہے۔ جماعت اسلامی کے انتخابی اتحاد نے 299 میں سے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان نشستوں میں جماعت اسلامی کی انفرادی نشستوں کی تعداد 68 ہے۔ لیکن یہ تعداد جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کی ’’پوری تصویر‘‘ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کی پوری تصویر یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے 1991ء کے انتخابات میں 18، 2001ء کے انتخابات میں 17 اور 2008ء کے انتخابات میں صرف 2 نشستیں حاصل کی تھیں مگر اس بار اس کی نشستوں کی تعداد 68 ہے جبکہ جماعت اسلامی نے 32 نشستوں کے انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دے کر الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ہے۔ ان نشستوں پر کہیں جماعت اسلامی صرف 2 ہزار ووٹوں سے ہاری ہے۔ کہیں اسے4000 ووٹوں سے شکست ہوئی ہے۔ ان نشستوں پر دھاندلی نہ ہوتی تو جماعت اسلامی کی کامیابی اور بھی شاندار ہوسکتی تھی۔ حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس نے کُل ووٹوں کا 40 فی صد حاصل کیا ہے جو 3 کروڑ ووٹوں سے زیادہ ہے۔ بنگلا دیش میں سینیٹ کا ادارہ موجود نہیں مگر اب اسے تخلیق کیا جارہا ہے۔ اس ادارے میں سیاسی جماعتوں کو ان نشستوں کے اعتبار سے نہیں بلکہ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے گی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ بنگلا دیش کی سینیٹ کی 40 فی صد نشستیں جماعت اسلامی کے پاس ہوں گی۔ پاکستان میں جماعت اسلامی قاضی حسین احمد اور پروفیسر خورشید کو دیکھ کر خوش ہوتی تھی اس لیے کہ یہ دو بھی پچاس سینیٹروں کے برابر تھے مگر بنگلا دیش کی سینیٹ کا تو 40 فی صد جماعت اسلامی پر مشتمل ہوگا۔ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اسے نہ بنگلا دیشی فوج کی حمایت حاصل تھی نہ امریکا یا اس جیسی کوئی طاقت جماعت اسلامی کی پشت پر موجود تھی۔ یہاں تک کہ بنگلا دیش کے ذرائع ابلاغ پر بھی سیکولر لوگوں کا غلبہ ہے۔ اس کے برعکس بی این پی کو بنگلا دیشی فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بی این پی کے رہنما طارق رحمن 17 سال سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ ان پر بنگلا دیش میں بدعنوانی کے مقدمات چل رہے تھے مگر جیسے ہی انہیں بنگلا دیشی فوج کا اشارہ ملا وہ بنگلا دیش آگئے۔ طارق رحمن امریکا کے لیے کتنے قابل قبول ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد طارق رحمن نے پہلی ملاقات بنگلا دیش میں امریکا کے سفیر سے کی ہے۔ بنگلا دیش میں عوامی لیگ پر پابندی ہے اور اس نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا مگر عوامی لیگ انتخابات اور اس کے نتائج سے لاتعلق نہیں تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عوامی لیگ کے حمایتیوں نے جماعت اسلامی کا راستہ روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر بی این پی کو ووٹ ڈالے ہیں۔ اس کے بغیر بنگلا دیش کے انتخابات میں رائے دہندگی کی شرح 60 فی صد نہیں ہوسکتی تھی۔

جماعت اسلامی بنگلا دیش کی اس شاندار انتخابی کامیابی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اس لیے کہ جماعت اسلامی ڈیڑھ دہائی سے ایک ’’معتوب جماعت‘‘ تھی۔ اس کے رہنمائوں کو پھانسیاں دی گئی تھیں، اس کے رہنمائوں اور کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کے لیے کھلی فضا میں سیاسی کام کرنا ناممکن بنادیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کو ایک ’’سیاسی گالی‘‘ میں ڈھال دیا گیا تھا مگر جیسے ہی سازگار حالات پیدا ہوئے جماعت اسلامی اس طرح سامنے آئی جیسے وہ کہیں گئی ہی نہیں تھی بلکہ اس کے جوش اور ولولے میں پہلے سے زیادہ توانائی اور شدت دیکھی گئی مگر جماعت اسلامی کی شاندار انتخابی کامیابی صرف جماعت اسلامی کی خوبی اور خوبصورتی نہیں۔ اس میں بنگلا دیش کے معاشرے کی خوبی اور خوبصورتی بھی شامل ہے۔

جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے جماعت اسلامی نے 1971ء کے بحران میں پاک فوج کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ جماعت اسلامی نے البدر اور الشمس بنائی تھیں جو عوامی دائرے میں پاک فوج کے لیے کام کررہی تھیں۔ چنانچہ جماعت اسلامی پر ’’اینٹی بنگلا دیش‘‘ ہونے کی مہر لگ گئی۔ بنگلا دیش وجود میں آیا تو مکتی باہنی نے چُن چُن کر البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو قتل کیا۔ اس فضا میں ایسا محسوس ہوا کہ اب جماعت اسلامی کا کبھی بنگلا دیش میں کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ بنگلا دیش مخالف جماعت کبھی بنگلا دیش کے معاشرے میں قبولیت عامہ حاصل نہیں کرپائے گی۔ لیکن جیسا کہ مولانا ظفر علی خان نے کہا ہے۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

چنانچہ جماعت اسلامی نے حالات تھوڑے سے سازگار ہوتے ہی دوبارہ کام شروع کردیا اور بنگلا دیش کے عوام کی ایک چھوٹی سی تعداد نے اسے قبول کرنا شروع کردیا۔ 1991ء سے 2008ء تک تین انتخابات میں حصہ لیا اور اس نے 1991ء کے انتخابات میں 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اس کے دو وزیر بی این پی کی حکومت میں جماعت کی نمائندگی کرتے رہے۔ لیکن 15 سال پہلے شیخ حسینہ واجد نے جماعت اسلامی پر ظلم کی انتہا کردی اور اس ظلم سے ایسا محسوس ہوا کہ جماعت اسلامی اب کبھی اُبھر نہیں سکے گی۔ لیکن شیخ حسینہ واجد کے رخصت ہونے کے بعد جماعت اسلامی نہ صرف یہ کہ اُبھر کے سامنے آگئی بلکہ اس نے بنگلا دیش کی قومی اسمبلی کی 68 نشستوں پر کامیابی بھی حاصل کرلی۔ جماعت اسلامی نے 32 نشستوں پر انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے اگر بنگلا دیش کی اسٹیبلشمنٹ نے ایمانداری برتی اور ان نشستوں کا فیصلہ جماعت اسلامی کے حق میں ہوگیا تو بنگلا دیش کی قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پاس 100 نشستیں ہوں گی۔ یہ نشستیں ایک طرف جماعت اسلامی کا ’’کمال‘‘ ہوں گی اور دوسری طرف بنگلا دیش کے معاشرے کا ’’جمال‘‘ ہوں گی۔ ویسے یہ ’’کمال‘‘ اور یہ ’’جمال‘‘ تو اس وقت بھی موجود ہے۔

مسلم بنگلال کے مزاج میں دو چیزیں ہمیشہ سے موجود ہیں۔ ایک ’’حق کی قبولیت‘‘ اور دوسرے ظلم و جبر کی مزاحمت۔ تاریخ شاہد ہے کہ انگریزوں کے ظلم و جبر اور استبداد کی مزاحمت برصغیر کے صرف چار خطوں کے مسلمانوں نے کی یعنی بنگال، دکن، دلّی اور یوپی کے مسلمانوں نے۔ بنگال میں سراج الدولہ نے انگریزوں کی مزاحمت کی اور حق کا پرچم سربلند کیا، مگر میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کرتے ہوئے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ چنانچہ سراج الدولہ کی مزاحمت ناکام ہوگئی۔ دکن میں ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف حق کا پرچم بلند کیا اور ان کے استبداد کو للکارا۔ مگر میر صادق نے ٹیپو سے غداری کی اور ٹیپو کی مزاحمت ناکام ہوگئی۔ چنانچہ اقبال کو کہنا پڑا۔

جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملت، ننگ دیں، ننگِ وطن

دلّی اور یوپی کے مسلمانوں نے انگریزوں کی بے مثال مزاحمت کی اور اس مزاحمت کے روحِ رواں جنرل بخت خان نے بہادر شاہ ظفر کو بہت سمجھایا کہ وہ قلعے سے نکل کر مزاحمت کی قیادت کریں مگر بہادر شاہ ظفر کو اس کے بزدل وزیروں اور مشیروں نے قلعے سے نکلنے نہ دیا۔ اس طرح دلّی اور یوپی کی مزاحمت بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ جہاں تک پنجاب، کے پی کے، سندھ اور بلوچستان کا تعلق ہے تو یہ جبر و استبداد کی مزاحمت کے حوالے سے ’’زندہ مُردوں‘‘ کے قبرستان ہیں۔ ان خطوں کے مسلمانوں نے نہ کبھی انگریزوں کی مزاحمت کی، نہ فوجی آمریتوں کو کبھی للکارا۔ بنگال کے مزاج میں چونکہ مزاحمت ہے اس لیے اس نے ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمن کو بھی نہ بخشا اور اس کے پورے خانوادے کو قتل کردیا۔ صرف شیخ حسینہ واجد زندہ بچیں۔ اس لیے کہ اس وقت وہ ملک میں نہیں تھیں۔ شیخ حسینہ واجد کا خیال تھا کہ وہ چاہے بنگلا دیشیوں پر کتنا ہی ظلم کرلیں انہیں روکنے والا کوئی نہیں مگر بنگال کی مزاحمتی روح بیدار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شیخ حسینہ واجد کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ مغربی پاکستان کے جرنیلوں نے 1971ء میں انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا تو بنگالیوں نے پاکستان کے جرنیلوں کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ بنگال کے مزاج میں مزاحمت نہ ہوتی تو شیخ حسینہ واجد آج بھی بنگلا دیش کی وزیراعظم ہوتیں۔ بھارت نے بنگلا دیش کی تخلیق میں مرکزی کردار ادا کیا تھا مگر بھارت نے بنگلا دیش کو اپنی کالونی بنایا تو بنگلا دیش کے عوام کی عظیم اکثریت بھارت کے بھی خلاف ہوگئی اور وہ پاکستان کی طرف دیکھنے لگی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کی شاندار انتخابی کامیابی کا ایک مفہوم یہ ہے کہ بنگلا دیش کے عوام کی بڑی تعداد نے جماعت اسلامی کے ماضی کو یکسر فراموش کرکے اسے دل و جان سے قبول کرلیا ہے اور اب جماعت اسلامی بنگلا دیش کی ایک بہت بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔ ایسی قوت جس کی پشت پر ووٹ کی طاقت بھی ہے۔ یہ تجربہ ہمارے سامنے ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اپنے ایک انٹرویو میں فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ذرا سی تنقید کردی تھی تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سید منور حسن کے پیچھے پڑ گئی اور ان کے منظر سے ہٹنے تک چین سے نہیں بیٹھی۔ الطاف حسین ہزاروں لوگوں کو مروا رہا تھا تو پاکستانی جرنیلوں کو کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن الطاف حسین نے جرنیلوں کو گالیاں دینی شروع کیں تو اس کی سیاست ختم کردی گئی۔ عمران خان کو جرنیل ہی لائے تھے مگر انہوں نے جرنیلوں پر تنقید شروع کی تو 2024ء کا پورا الیکشن ہی اغوا کرلیا گیا اور عمران خان جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ مگر جماعت اسلامی بنگلا دیش 1971ء میں بنگلا دیش کے خلاف کردار ادا کرنے کے باوجود آج ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی شاندار کامیابی جماعت اسلامی بنگلا دیش اسلامی بنگلا دیش کی میں جماعت اسلامی کی کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے کہ جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے شیخ حسینہ واجد کے مسلمانوں نے بنگلا دیش میں بنگلا دیش کے کہ بنگلا دیش کی مزاحمت مزاحمت کی نشستوں پر ان نشستوں اس لیے کہ بی این پی نہیں تھی یہ ہے کہ حاصل کی کے لیے ہوں گی کی اور اور اس

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی