انقلابِ ایران: جدو جہد، قربانیاں، اصلاحات اور عصری چیلنجز
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260220-03-6
ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کا وہ عظیم معجزہ ہے جس نے نہ صرف ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ کیا، بلکہ دنیا کو ایک نیا سیاسی، دینی اور جمہوری نظام ’’انقلاب اسلامی‘‘ کے نام سے عطا کیا۔ اس نظام کی روح خلافت راشدہ کے کامیاب ماڈل سے ملتی ہے۔ امام خمینی کی قیادت میں آنے والا یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ پورے معاشرے کی نظریاتی تطہیر کا نام تھا۔ اس کے گہرے اثرات پورے عالم اسلام اور خصوصاً ملت جعفریہ کے معاشروں پر مرتب ہوئے۔ شاہِ ایران کا دورِ حکومت پرتشدد آمریت، عوامی استحصال، مغربی ثقافت کی اندھی تقلید اور ’ساواک‘ جیسی ظالم انٹیلی جنس ایجنسی کے جبر سے عبارت تھا۔ ملک کے وسائل پر مٹھی بھر طبقہ قابض تھا اور اسلامی شعائر کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ امام خمینی کو 1963 میں جلاوطن کیا گیا۔ وہ پہلے نجف اور بعد میں پیرس میں جلاوطنی جھلتے رہے۔ انہوں نے جلاوطنی کے کٹھن ایام میں بھی ایرانی عوام کی فکری تربیت کی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ 1977 میں شاہ کے جبر و مظالم کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا تہران سے آغاز ہوا۔ اور یہ تحریک پورے ملک بھر میں پھیلے گئی احتجاج اور فوجی خونریز تشدد سے آگے بڑھتا رہا۔ 8 ستمبر 1978 بلیک فرائیڈے کو تہران کے ژالہ اسکوائر پر شاہ کی فوج نے مظاہرین پر اندھا دھن فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اور یہاں سے انقلاب کی آگ بھڑک اٹھی اور قربانیوں اور شہادتوں کا سلسلہ آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔
16 جنوری 1979 کو شاہ کو مجبوراً ایران چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ یکم فروری کو تہران ائرپورٹ پر امام خمینی کا والہانہ تاریخ ساز استقبال ہوا۔ عوامی دباؤ میں آ کر 11 فروری کو افواج نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس طرح ولولہ انگیز عوامی طاقت نے ٹینکوں اور توپوں کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ حق کے سامنے باطل ٹھیر نہیں سکتا۔ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد امام خمینی نے ملک کو ایک منظم قانونی ڈھانچہ دینے کے لیے درج ذیل بنیادی اقدامات کیے۔
اسلامی جمہوری ریفرنڈم: امام خمینی نے آمریت کے خاتمے کے بعد عوامی رائے کو مقدم رکھا۔ مارچ 1979ء میں ایک ملک گیر ریفرنڈم کرایا گیا اور یہی اسلامی دستور کی بنیاد بنا۔ جس میں 98 فی صد سے زائد عوام نے ’اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ‘ ایران کے حق میں ووٹ دیا۔ اور ثابت کیا کہ عوام اپنی مرضی سے اسلامی نظام زندگی چاہتے ہیں۔
ولایت ِ فقیہ اور رہبر ِ معظم کا عہدہ: نئے آئین میں ’ولایت ِ فقیہ‘ کے نظریے کو شامل کیا گیا۔ اس کے تحت ’رہبر ِ معظم‘ (سپریم لیڈر) کا ایک بااختیار عہدہ تخلیق کیا گیا جو تمام حکومتی شعبوں (عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ) کی نگرانی کرتا ہے تاکہ کوئی بھی فیصلہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ یہ عہدہ تقویٰ، علم اور شجاعت کی بنیاد پر سیاسی نظام کو صحیح سمت فراہم کرتا ہے۔
شورائے نگہبان (Guardian Council): پارلیمنٹ کے فیصلوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنے کے لیے 12 ارکان پر مشتمل ’شورائے نگہبان‘ بنائی گئی۔ اس کونسل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے افراد اسلامی نظریہ پر یقین رکھتے ہیں۔ مزید اس کو یقینی بنانا کہ ملک کا کوئی بھی قانون اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ بنے۔
تعلیمی نظام اور میڈیا کی تطہیر: امام خمینی نے تعلیمی نظام میں ’’انقلابِ ثقافتی‘‘ برپا کیا۔ نصاب سے مغربی استعماری نظریات نکال کر اسلامی تاریخ، اخلاقیات اور سائنس کو یکجا کیا گیا۔ میڈیا کو (جو پہلے فحاشی کا گڑھ تھا) دعوتِ دین اور قومی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنایا گیا۔
خواتین کا مقام اور حجاب: شاہ کے دور میں خواتین کو ’نمائشی اشیاء‘ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ امام خمینی نے خواتین کو عزت و وقار دیا اور معاشرے میں ان کی حفاظت کے لیے حجاب اور اسکارف کو لازمی قرار دیا۔ اس کا مقصد خواتین کو سیاسی و سماجی زندگی سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا تھا تاکہ وہ باحیا رہ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں۔ اسی لیے ایران میں خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاسداران انقلاب انقلابی اسپریڈ کو زندہ رکھنے کے لیے انقلاب کی عوامی نگہبانی کرنے کے لیے ان کو فعال رکھا ہے۔
آج ایران کے اسلامی انقلاب کو 47 برس بیت چکے ہیں۔ اس عرصے میں ایران نے عالمی پابندیوں کے باوجود دفاع، طب اور ایٹمی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، کرپشن کے عنصر کو بھی قابو کیا ہے لیکن موجودہ دور میں کچھ نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔
نظریاتی گرفت اور نئی نسل: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں، جو انقلاب کی قربانیوں سے واقف نہیں ہیں۔ مغرب کی بھرپور ثقافتی یلغار کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بیرونی پروپیگنڈے کے نتیجے میں اسلامی اقدار، خاص طور پر خواتین کے حجاب اور اسکارف جیسے معاملات پر معاشرتی دباؤ اور بعض حلقوں میں مزاحمت بڑھی ہے۔
معاشی دباؤ اور کرپشن کا چیلنج: اگرچہ انقلاب کا مقصد کرپشن کا خاتمہ تھا، جس کو بڑی حد قابو کیا ہے۔ اس وقت طویل عالمی معاشی پابندیوں، امریکا کی ایران دشمنی، مہنگائی اور بعض اندرونی انتظامی و نظریاتی کمزوریوں کی وجہ سے معاشی مشکلات نے عوام پر مذہبی اور سماجی گرفت بھی کمزور پڑی ہے جس کا مظاہرہ موجودہ عوامی احتجاج میں سامنے آیا ہے۔
عصری چیلنجز اور اصلاح کے لیے تجاویز: 1) امام خمینی کا لگایا ہوا یہ پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، لیکن 47 سال بعد اس نظام کو اپنی جڑوں (اسلامی اصولوں) سے جڑے رہنے کے لیے نئی نسل کی فکری آبیاری اور بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس لیے اسلامی انقلاب کو دوبارا نیا جنم Re-birth دینے اور اصلاح کی نئی لہر اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، شوریٰ نگہبان اور پارلیمنٹ کی مشاورت سے نبی اکرمؐ، صحابہ کرام و اہل بیت المطہرات کی مثالی زندگیوں سے ان کی جدو جہد اور قربانیوں کو جذباتی انداز میں جلا دینے کی ضرورت ہے۔ 2) امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے امام حسین اور شہدائِ کربلا کی شجاعت اور قربانیوں کو مشن بنانا ہوگا۔ اسی لیے ایران اب تک امریکا کی دھمکیوں اور بڑھکیوں کے آگے ڈٹا ہوا ہے۔ اس طرح دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں صرف ایران ایک آزاد اور بیباک ملک ہے۔ 3) مغرب کی نیم برہنہ تہذیب اور خاندانی بربادی کا فہم عوام کو دیناہوگا۔ آج مغرب اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی پر کھڑا ہے ورنہ انکا تمدنی اور اخلاقی نظام بوسیدہ ہوچکا ہے۔ اور گرنے والا ہے۔ 4) تعلیمی نظام اور میڈیا کو از سر نو انقلابی اسپریڈ سے ترتیب دیکر مغربی مرعوبیت سے نکالنا ہے۔ سوشل میڈیا کو مغربی فرمانروائی سے نکال کر خدائی پکار پر لبیک کہنا اور حب الوطنی کے جذبے پر اٹھانا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اسی کی ذات پر توکل، سیدنا محمدؐ کا نمونہ عمل اور ان کی ہمہ جہت شخصیت اور امام خمینی کی غیر متزلزل قیادت ایران کا اصلی اثاثہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایران کی نصرت اور مدد فرمائے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی انقلاب انقلاب کی کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :