data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج تیسری تراویح میں سورہ آلِ عمران تلاوت کی جائے گی۔ یہ مدنی سورت ہے، اس سورت کا مرکزی مضمون غزوۂ احد ہے، اس کے ساتھ عیسائی وفد ِ نجران کے احوال بھی مذکور ہیں۔ چونکہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی اس لیے سورت میں غزوۂ بدر کے بعد کے احوال اور کفار ومشرکین سے چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی۔ سورت کے پہلے رکوع میں معانی کے لحاظ سے قرآن مجید کی آیات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک آیات ِمحکمات ہیں جن کے معانی و مفاہیم بالکل واضح ہیں اور ان کا تعلق عمل اور انسانی معاملات سے ہے۔ جبکہ دوسری آیات ِ متشابہات ہیں جن کے کلی طور معانی و مفاہیم کو سمجھنا انسان کے بس میں نہیں، جیسے اللہ کی ذات و صفات، اللہ کا ہاتھ، کان، چہرہ ، عالم برزخ و عالم قبر کے احوال وغیرہ۔ ان کے متعلق انسانی ذہن کی استعداد کے مطابق جتنا علم دیا گیا وہی کافی ہے۔ دوسرے رکوع میں کفار کو مخاطب کرکے تنبیہ کی گئی کہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ تیسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمرانی بیان کرتے ہوئے اسے اللہ کا فضل بتایا کہ وہ جب او ر جس کو چاہتا ہے اقتدار عطاکرتا ہے اور جب چاہے ان سے چھین لیتا ہے۔ پھر ان دونوں کو اللہ کے سامنے اپنے کیے کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ چوتھے رکوع میں اللہ کی محبت کو رسولؐ کی اتباع سے مشروط کیا گیا ہے۔ رسولؐ کی نافرمانی کو بھی کفر قرار دیا گیا۔ اسی رکوع کی آیت 35 سے چھٹے رکوع تک سیّدہ مریم ؑ،سیدنا زکریا و یحییٰ ؑ کا ذکر ہے۔ یہاں نجران کے عیسائی عالموں کو جو جواب دیا گیا بیان کیا جا رہا ہے۔ سیدہ مریم ؑ جب اپنی والدہ کے پیٹ میں تھیں تو ان کی والدہ نے اللہ سے نذر مانی کہ بیٹا ہوتا تو اسے ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کردوں گی۔ لیکن جب خلاف توقع انہیں بیٹی ہوئی تو وہ حیران ہوئیں کہ اب کیا کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی نذر کو قبول کیا اور ہیکل کے لیے پہلی بار کسی خاتون کی خدمت کو قبول فرمایا۔ یہ حقیقت بیان کرکے سیدہ مریم ؑ کے متعلق عیسائی عقیدے کی نفی کی گئی جس میں وہ نعوذ باللہ انہیں خدا کی ماں قرار دیتے ہیں۔
آگے چل کر سیدنا زکریاؑ کا تذکرہ ہے جو سیّدہ کی خبرگیری کے لیے ان کے اعتکاف والے کمرے آتے تو ان کے پاس اللہ کی ایسی نعمتیں پاتے جو کسی عام انسان کی دسترس میں نہیں ہوسکتی تھیں، اس پر انہوں نے بی بیؑ سے ان نعمتوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ درحقیقت یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ وہیں پر سیدنا زکریاؑ نے اپنی پیرانہ سالی اور ان کی اہلیہ کے دائمی بانجھ پن کے باوجود اللہ سے اولاد کی دعا کی۔ اور اللہ نے انہیں سیدنا یحییٰ ؑکی خوش خبری سنائی۔
اس مضمون سے متصل ہی سیدہ مریم ؑ کے بطن سے سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش کا تفصیلی بیان ہے۔ ان دونوں واقعات سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ان عیسائیوں سے سوال کیا گیا کہ اگر یحییٰ ؑ کی ولادت کو معجزہ مانتے ہو تو پھر محض ان کی ولادت کے چھے ماہ بعد سیدنا عیسیٰؑ کی ولادت کو معجزہ ماننے میں کیوں انکاری ہو؟ حالانکہ دونوں کی پیدائش خلاف معمول ہی ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد ان عیسائیوں کو دعوت دی گئی کہ اگر ا ب بھی تمہیں اپنے عقیدے کی سچائی پر یقین ہے تو لوگوں کے سامنے اللہ سے دعا کرو کہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو، لیکن انہوں نے ہٹ دھرمی دکھائی اور اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس آیت کو آیت ِ مْباہلہ کہتے ہیں۔
ساتویں رکوع سے نویں رکوع تک اہل کتاب کو مشترکات پر آنے کی دعوت دی گئی کہ اصل دین ایک ہی ہے، لیکن تم نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ دسویں رکوع سے بارہویں رکوع تک انفاق کی اہمیت، خانہ کعبہ کی تعمیر، حج ، اہل کتاب کی اطاعت سے بچنے، اتحاد امت مسلمہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ تیرہویں رکوع سے انیسویں رکوع تک مرکزی مضمون غزوۂ احد کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ نبی اکرمؐ کے گھر سے نکلنے، منافقین کی سازشوں اور بعض اہل ایمان کے ضعف کا تذکرہ کیا گیا۔ غزوہ بدر کا تذکرہ کرتے ہوئے سمجھایا گیا کہ ایمان خالص ہو تو بدر کے مثل اللہ کی نصرت ہر جگہ اْتر سکتی ہے۔ دوران غزوۂ احد نبی کریمؐ کی شہادت کی افواہ اور اس پر مسلمانوں کو ثابت قدمی کی تعلیم دی گئی۔ شہداء کے فضائل اور ان سے اللہ کے ہم کلام ہونے کا تذکرہ ہے۔ سورت کے آخری رکوع میں اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں، جن میں ایمان پر استقامت، کائنات کی تخلیق میں غور و فکر اور راہ ِ خدا میں اپنی جان، مال و ہر عزیز متاع کی قربانی کو اللہ کے بے پناہ اجر سے مشروط کیا گیا ہے۔ آخری آیت میں تلقین فرمائی: ’’اے ایمان والو! صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اْمید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے‘‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رکوع میں کا تذکرہ رکوع تک کیا گیا اللہ سے اللہ کی کے لیے اور ان
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔