Jasarat News:
2026-06-02@20:42:28 GMT

کوشش کرکے تو دیکھیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ملک میں سائنس کی تعلیم کا مسئلہ محض نصاب کا نہیں، سوچ کا ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر چند ذہین افراد اپنی سطح پر کوشش کریں گے تو سب کچھ بدل جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک اجتماعی فیصلے، اجتماعی ترجیحات اور اجتماعی سرمایہ کاری نہیں ہوگی، تبدیلی کا پہیہ آگے نہیں بڑھے گا۔ یہی بات معروف ماہر ِ تعلیم ڈاکٹر فیاض وید بار بار اُجاگر کرتے رہے۔ وہ بزم مکالمہ پاکستان کی اس ماہانہ نشست سے مخاطب تھے۔ جو طارق جمیل ہر ماہ رباط لائبیری میں منعقد کرتے ہیں۔ سائنس کی تعلیم میں ہماری ناکامی پر یہ گفتگو ہمارے قومی المیہ کا اظہار تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فرد کی کوشش ضروری ہے مگر کافی نہیں۔معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور افراد کے درمیان رشتہ زبان، مکالمے اور برداشت سے قائم ہوتا ہے۔ اختلاف رائے ہی مشورے کو جنم دیتا ہے اور مشورہ ہی بہتر نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر ہم واقعی سائنسی مزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں سوال کرنا جرم نہ ہو، جہاں استاد اور شاگرد دونوں سیکھنے کے عمل میں شریک ہوں، اور جہاں مختلف خیالات کو برداشت کیا جائے۔ سائنسی ترقی دراصل اسی سماجی رویے کا نام ہے۔ ہم اکثر بڑے ممالک کی مثالیں دیتے ہیں، مگر بنیادی حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی آمدنی کا اوسطاً دو سے تین فی صد تحقیق اور ترقی پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ ہم اعشاریوں میں اٹکے رہتے ہیں۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے: اسکول کم، کالج ناکافی، جامعات محدود، لیبارٹریاں کمزور، اور تحقیق کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر۔ ایسے میں اگر ہم عالمی معیار کی کامیابیوں کا خواب دیکھیں تو یہ محض خواہش رہے گی۔

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں بڑے کام افراد اکیلے نہیں کرتے۔ ان کے پیچھے ادارے ہوتے ہیں، فنڈنگ ہوتی ہے، انفرا اسٹرکچر ہوتا ہے اور ایک معاون ماحول ہوتا ہے۔ سائنس دان کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ بجلی ہوگی یا نہیں، آلات ملیں گے یا نہیں، یا تنخواہ وقت پر آئے گی یا نہیں۔ ہمارے ہاں باصلاحیت لوگ موجود ہیں، مگر نظام ان کی صلاحیتوں کو جلا نہیں دیتا۔ ڈاکٹر فیاض وید نے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر سرکاری اہلکاروں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تو شاید نظام خود بخود بہتر ہونا شروع ہو جائے۔ جب فیصلہ سازوں کے اپنے مفادات نظام سے جڑ جائیں گے تو وہ اسے بہتر بنانے پر مجبور ہوں گے۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں کو کمیونٹی کی بنیاد پر چلانے کی تجویز بھی قابل ِ عمل ہے۔ محلے کے لوگ، والدین اور اساتذہ مل کر مینجمنٹ کمیٹیاں بنائیں اور اپنے اسکول کو اپنی ذمے داری سمجھیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ پہل کون کرے گا۔ ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ جدید تعلیم کا مطلب چھوٹے بچوں کو لیپ ٹاپ پکڑا دینا ہے۔ ایسا نہیں۔ تعلیم ہمیشہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتی ہے۔ کوئی بھی آٹھ سال کے بچے کو پیچیدہ سائنسی نظریات نہیں پڑھاتا۔ نصاب عمر اور ذہنی سطح کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ ہمیں کوئی نئی دنیا ایجاد نہیں کرنی، ہمیں وہی طریقے اپنانے ہیں جو دنیا پہلے ہی آزما چکی ہے۔ پہیہ دوبارہ بنانے کی ضرورت نہیں۔

اصل مقصد کیا ہے؟ تعلیم کا مقصد شعور پیدا کرنا ہے، سوال اُٹھانے کی ہمت دینا ہے، تجسس کو زندہ رکھنا ہے۔ اگر ہم سائنس کو دلچسپ نہیں بنائیں گے، اگر ہم بچے کے اندر دریافت کا شوق پیدا نہیں کریں گے، تو وہ محض رٹا لگائے گا اور امتحان کے بعد سب بھول جائے گا۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی ہے تو سمت، منصوبہ بندی اور اجتماعی ارادے کی۔ جس دن ہم نے فیصلہ کر لیا کہ سائنس کی تعلیم ہماری ترجیح ہے، اسی دن سے راستے نکلنا شروع ہو جائیں گے۔ پہلے قدم کے لیے صرف نیت اور جرأت چاہیے کوشش تو کر کے دیکھیں۔

عطامحمد تبسم سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اگر ہم

پڑھیں:

جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ملتان زون نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی۔

ایف آئی اے ملتان زون کے مطابق 2 خواتین کو آف لوڈ کرکے 2 ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا۔ مسافروں نے جعلی نکاح نامے پر سوازی لینڈ کے وزٹ ویزے حاصل کیے تھے۔ 

ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ایجنٹ نے مسافروں کی غیرقانونی امیگریشن کیلیے رشوت دینے کی کوشش بھی کی۔ 

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا