data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260220-03-4
ملک میں سائنس کی تعلیم کا مسئلہ محض نصاب کا نہیں، سوچ کا ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر چند ذہین افراد اپنی سطح پر کوشش کریں گے تو سب کچھ بدل جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک اجتماعی فیصلے، اجتماعی ترجیحات اور اجتماعی سرمایہ کاری نہیں ہوگی، تبدیلی کا پہیہ آگے نہیں بڑھے گا۔ یہی بات معروف ماہر ِ تعلیم ڈاکٹر فیاض وید بار بار اُجاگر کرتے رہے۔ وہ بزم مکالمہ پاکستان کی اس ماہانہ نشست سے مخاطب تھے۔ جو طارق جمیل ہر ماہ رباط لائبیری میں منعقد کرتے ہیں۔ سائنس کی تعلیم میں ہماری ناکامی پر یہ گفتگو ہمارے قومی المیہ کا اظہار تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فرد کی کوشش ضروری ہے مگر کافی نہیں۔معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور افراد کے درمیان رشتہ زبان، مکالمے اور برداشت سے قائم ہوتا ہے۔ اختلاف رائے ہی مشورے کو جنم دیتا ہے اور مشورہ ہی بہتر نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر ہم واقعی سائنسی مزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں سوال کرنا جرم نہ ہو، جہاں استاد اور شاگرد دونوں سیکھنے کے عمل میں شریک ہوں، اور جہاں مختلف خیالات کو برداشت کیا جائے۔ سائنسی ترقی دراصل اسی سماجی رویے کا نام ہے۔ ہم اکثر بڑے ممالک کی مثالیں دیتے ہیں، مگر بنیادی حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی آمدنی کا اوسطاً دو سے تین فی صد تحقیق اور ترقی پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ ہم اعشاریوں میں اٹکے رہتے ہیں۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے: اسکول کم، کالج ناکافی، جامعات محدود، لیبارٹریاں کمزور، اور تحقیق کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر۔ ایسے میں اگر ہم عالمی معیار کی کامیابیوں کا خواب دیکھیں تو یہ محض خواہش رہے گی۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں بڑے کام افراد اکیلے نہیں کرتے۔ ان کے پیچھے ادارے ہوتے ہیں، فنڈنگ ہوتی ہے، انفرا اسٹرکچر ہوتا ہے اور ایک معاون ماحول ہوتا ہے۔ سائنس دان کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ بجلی ہوگی یا نہیں، آلات ملیں گے یا نہیں، یا تنخواہ وقت پر آئے گی یا نہیں۔ ہمارے ہاں باصلاحیت لوگ موجود ہیں، مگر نظام ان کی صلاحیتوں کو جلا نہیں دیتا۔ ڈاکٹر فیاض وید نے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر سرکاری اہلکاروں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تو شاید نظام خود بخود بہتر ہونا شروع ہو جائے۔ جب فیصلہ سازوں کے اپنے مفادات نظام سے جڑ جائیں گے تو وہ اسے بہتر بنانے پر مجبور ہوں گے۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں کو کمیونٹی کی بنیاد پر چلانے کی تجویز بھی قابل ِ عمل ہے۔ محلے کے لوگ، والدین اور اساتذہ مل کر مینجمنٹ کمیٹیاں بنائیں اور اپنے اسکول کو اپنی ذمے داری سمجھیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ پہل کون کرے گا۔ ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ جدید تعلیم کا مطلب چھوٹے بچوں کو لیپ ٹاپ پکڑا دینا ہے۔ ایسا نہیں۔ تعلیم ہمیشہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتی ہے۔ کوئی بھی آٹھ سال کے بچے کو پیچیدہ سائنسی نظریات نہیں پڑھاتا۔ نصاب عمر اور ذہنی سطح کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ ہمیں کوئی نئی دنیا ایجاد نہیں کرنی، ہمیں وہی طریقے اپنانے ہیں جو دنیا پہلے ہی آزما چکی ہے۔ پہیہ دوبارہ بنانے کی ضرورت نہیں۔
اصل مقصد کیا ہے؟ تعلیم کا مقصد شعور پیدا کرنا ہے، سوال اُٹھانے کی ہمت دینا ہے، تجسس کو زندہ رکھنا ہے۔ اگر ہم سائنس کو دلچسپ نہیں بنائیں گے، اگر ہم بچے کے اندر دریافت کا شوق پیدا نہیں کریں گے، تو وہ محض رٹا لگائے گا اور امتحان کے بعد سب بھول جائے گا۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی ہے تو سمت، منصوبہ بندی اور اجتماعی ارادے کی۔ جس دن ہم نے فیصلہ کر لیا کہ سائنس کی تعلیم ہماری ترجیح ہے، اسی دن سے راستے نکلنا شروع ہو جائیں گے۔ پہلے قدم کے لیے صرف نیت اور جرأت چاہیے کوشش تو کر کے دیکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اگر ہم
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز