جماعت اسلامی سندھ کا گیس سلنڈر دھماکے پراظہارافسوس
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمدیوسف نے سولجرز بازار میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں عمارت منہدم ہونے سے16سے زاید قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زوردیا ہے کہ واقعے کی غیرجاندارانہ و فوری تحقیقات کرکے اصل حقائق سے قوم کو آگاہ اورجوبھی اس کا ذمے دار ہواس کو سخت سزا دی جائے۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ یہ ہماری بدقسمتی اورحکمرانوں کی بدنیتی ہے کہ جو صوبہ کل ملکی پیدوارکی 72فیصدگیس پیداکرتا ہواس کے عوام کراچی تاکشمورمحروم تو کہیں بدترین لوڈشیڈنگ کا شکارہیں۔ساری سہولیات ومراعات مٹھی بھراشرافیہ کے لیے ہیں ۔زندگی کی بنیادی ضرورت کے باعث شہری اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر گھروں میں گیس سلنڈر رکھنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے آئے روز جان لیوا حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پبلک ٹرانسپورٹ،اسکول وین سے لیکر گھریلواستعمال میں آنیوالے غیرمعیاری گیس سلنڈر بھی ایسے افسوس ناک حادثات کا سبب بن رہے ہیں جس کا سدباب بھی ناگزیر ہے۔انہوں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیس سلنڈر
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔