لانڈھی کایٹج انڈسٹریز لینڈ سروے رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر )کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی آئینی پٹیشن کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بینچ ll میں جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی کی بینچ میں ہوئی، سماعت کے آغاز پر بورڈ آف ریونیو کے وکلا نے آئینی بینچ کے استفسار پر لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی زمین کی سروے رپورٹ پیش نہ کرنے پر معذرت کرتے ہوئے ایک ہفتے کی مزید مہلت طلب کی جس پر آئینی بینچ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے کہا کہ بورڈ آف ریونیو پہلے ہی ایک سال سے زیادہ کی تاخیر کر چکا ہے اور یہ رپورٹ اب تک کیوں نہیں مرتب کی گئی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے عدالت نے ریونیو بورڈ کے وکلا کے دلائل کو مسترد کر دیا اس موقع پر لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز ایکشن کمیٹی کے وکیل عثمان فاروق اور انٹرونرز کے وکیل سید اقتدار جعفری کے اسسٹنٹ شیخ فرخ حسین اقبال ایڈووکیٹ، پنشنرز محمود حامد اور نسرین ابو نصر بھی موجود تھیں اس موقع پر عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے بھی ریونیو بورڈ کی تساہلی پر اپنے ناراضگی کا اظہار کیا،عدالت نے ریونیو بورڈ کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 7 روز کے لیے ملتوی کر دی۔ دریں اثنا کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین محمود حامد سینئر وائس چیئرمین محمد رضوان وائس چیئرمین اقبال احمد شیخ نے کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کی سروے رپورٹ پیش نہ کرنے اور مسلسل تاخیر پر اظہار تشویش کیا ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 16 ماہ کی تاخیر ہو چکی ہے لہٰذا فوری طور پر سینئر ممبر ریونیو بورڈ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کی سروے رپورٹ فوری طور پر عدالت میں پیش کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انڈسٹریز کی ریونیو بورڈ سروے رپورٹ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔