پاکستانی تاجروں کو نئے چینی سال کی خوشیوں کے ساتھ بہار تہوار میلے میں بے شمار فوائد حاصل
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
چین کے اہم ترین روایتی تہواروں میں سے ایک بہار تہوار پاکستانی تاجروں کے لئے چینی منڈی تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم موقع بن چکا ہے۔
چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ میں بہار تہوار کے موضوع پر منعقدہ ایک تجارتی میلے سے متعدد پاکستانی تاجروں نے بھرپور فوائد حاصل کئے۔ مختلف اقسام کی اشیاء میں پاکستانی مصنوعات خاص طور پر توجہ کا مرکز بنیں اور چینی صارفین کی پسندیدگی حاصل کی۔
گزشتہ 10 برسوں سے ایسے میلوں میں شرکت کرنے والے پاکستانی تاجر عدیل خان اس میلے میں لیدر جیکٹس جیسی چمڑے کی پاکستانی مصنوعات لے کر آئے۔ ان کی فروخت انتہائی شاندار رہی۔
عدیل خان نے کہا کہ اس سال میں محسوس کر رہا ہوں کہ چینی صارفین کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور میری مصنوعات چین کے موسم سرما کے لئے بہت موزوں ہیں۔ عدیل خان نے چینی منڈی کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چینی عوام تحمل مزاج ہیں اور دنیا بھر کی مصنوعات خریدنے کا شوق رکھتے ہیں جبکہ ان کی مضبوط قوت خرید پاکستانی تاجروں کے لئے بہترین کاروباری مواقع پیدا کرتی ہے۔
اپنے کاروبار کی ترقی کے حوالے سے ان کا واضح منصوبہ ہے۔ گوانگ ژو، بیجنگ اور چھنگ دو سمیت چین کے کئی شہروں میں کاروبار کرنے کے بعد وہ چین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور یہاں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ اس میلے کے بعد وہ پاکستان واپس جائیں گے اور بہار تہوار کے فوراً بعد مزید کاروباری مواقع کے لئے دوبارہ چین آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عدیل خان نے جذباتی انداز میں کہا کہ چین اور پاکستان بھائی ہیں اور چین نے ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ جب بھی ہم چین آتے ہیں، ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہوں۔
ایک اور پاکستانی تاجر ابرار خان نے بھی اس سال کے میلے میں اچھی آمدن حاصل کی۔ وہ ہر سال اس میلے اور چین-جنوبی ایشیا نمائش میں شرکت کرتے ہیں اور ہاتھ سے تیار کردہ لکڑی کا پاکستانی فرنیچر اور ڈبوں سمیت مختلف مصنوعات پیش کرتے ہیں۔
ابرار خان اپنے سٹال کے سامنے گاہکوں کے سوالات کے جواب دینے میں مصروف دکھائی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ چینی صارفین پاکستانی دستکاری کی منفرد ڈیزائننگ، پھولوں کے نمونوں اور نفیس کاریگری کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کا تیار کردہ کچھ اقسام کا فرنیچر فروخت ہو چکا ہے۔
بہت سے چینی گاہکوں نے آئندہ خریداری کے لئے اپنا رابطہ نمبر بھی چھوڑا، جس پر انہوں نے کہا کہ اس سے مجھے بہت حوصلہ ملا ہے۔ وہ چین کی سالہا سال سے مسلسل ترقی سے بے حد متاثر ہیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے پورے چین کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پاکستانی تاجر مہر محمد اس میلے میں پاکستانی جواہرات اور قیمتی پتھروں سے تیار کردہ دستکاری کے نمونے اور مختلف اقسام کے زیورات لے کر آئے، جو چینی صارفین کے لئے نئے سال کے تحائف اور ذاتی استعمال کی اشیاء کے طور پر ایک مقبول انتخاب بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس نمائش کے لئے خاص طور پر ہاتھی اور گوبھی کی شکلوں کے قیمتی پتھر کے کچھ مجسمے تیار کئے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ چینی عوام کو ان سے خاص لگاؤ ہے۔
کونمنگ کے بہار تہوار میلے میں پاکستانی مصنوعات کی مقبولیت چین اور پاکستان کے درمیان قریبی اقتصادی اور تجارتی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس طرح کی نمائشوں نے پاکستانی تاجروں کو چینی منڈی تک رسائی کے لئے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جس سے پاکستانی مصنوعات زیادہ سے زیادہ چینی صارفین تک پہنچ رہی ہیں اور پاکستانی تاجروں کو چین کی وسیع منڈی سے حقیقی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستانی مصنوعات پاکستانی تاجروں چینی صارفین اور پاکستان بہار تہوار نے کہا کہ عدیل خان میلے میں کہ چینی ہیں اور اس میلے کہ چین کے لئے چین کے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ