ٹرمپ کا ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کیلئے محدود فوجی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
گذشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہونگے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، اب وقت آگیا ہے کہ ایران ہمارے ساتھ امن کے راستے پر چلے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے، ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اب وقت آگیا ہے کہ ایران ہمارے ساتھ امن کے راستے پر چلے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی اخبار امریکی صدر ایران کو کہ ایران
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔