سندھ ہائیکورٹ: جبری مستعفی قرار دیے گئے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے افسر بحال
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ایک افسر کو جبری طور پر مستعفی قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان الکریم میمن اور...
عدالتِ عالیہ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ انتظامیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار عبدالخالق کو عہدے پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ استعفیٰ منظور ہونے سے قبل اسے واپس لینا ملازم کا اختیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔