رنجشوں سے آگہی تک کا سفر
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
رنجشوں سے آگہی تک کا سفر WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز
تحریر:محمد محسن اقبال
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بنگال کے مسلمانوں نے برصغیر میں نظری? پاکستان کو عملی شکل دینے کی جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ 1906ء میں ڈھاکہ سے لے کر 1940ء کی قراردادِ لاہور اور پھر 1946ء کے فیصلہ کن انتخابات تک، ان کی سیاسی بیداری، تنظیمی قوت اور انتخابی تائید نے ایک تصور کو ناقابلِ واپسی مطالبے میں بدل دیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر بنگال کے مسلمانوں کی ثابت قدم قیادت اور بھرپور شرکت نہ ہوتی تو قیامِ پاکستان کا راستہ کہیں زیادہ کٹھن اور غیر یقینی ہوتا۔
جب تاریخی قرارداد منٹو پارک—جو آج اقبال پارک کہلاتا ہے—میں پیش کی گئی تو اسے پیش کرنے والے بنگال ہی کے سپوت اے کے فضل الحق تھے۔ اس قرارداد میں شمال مغربی اور مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں میں آزاد ریاستوں کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1946ء کے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ نے بنگال میں شاندار کامیابی حاصل کی، جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مشرقی بازو کے مسلمان عوام نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت اور ان کے وژن پر کامل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ بنگال کی یہ انتخابی فتح کوئی ضمنی واقعہ نہ تھا بلکہ مطالب? پاکستان کی اخلاقی اور سیاسی بنیاد کا مرکزی ستون تھی۔ لہٰذا قیامِ پاکستان کے ذکر کے ساتھ ہمیں بنگال کی مسلم قیادت اور عام لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے شہروں اور دیہاتوں میں اپنے جداگانہ جغرافیائی اور سیاسی تشخص کے لیے وقار اور جرأت سے کردار ادا کیا۔
تاہم جن حالات میں پاکستان وجود میں آیا وہ اپنے اندر ساختی کمزوریاں بھی رکھتا تھا۔ 1947ء کی تقسیم نے ایک ایسی ریاست کو جنم دیا جو ہزار میل کے فاصلے اور معاند سرزمین کے ذریعے دو حصوں میں منقسم تھی۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان بھارت حائل تھا—وہ ہمسایہ جس کی قیادت تقسیم کی منطق کو دل سے تسلیم نہ کر سکی تھی۔ یہ جغرافیائی تفریق محض انتظامی دشواری نہ تھی بلکہ ایک تاریخی تزویراتی مسئلہ تھا۔ مواصلات، دفاعی ہم آہنگی اور معاشی انضمام ابتدا ہی سے پیچیدہ ہو گئے۔
سیاسی تحریکوں کی فطرت یہ ہے کہ مشترکہ مقصد کی جدوجہد میں انفرادی اور اجتماعی کمزوریاں اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ اختلافات کو تقدیر کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن جب منزل حاصل ہو جاتی ہے اور فتح کی سرمستی مدہم پڑتی ہے تو پوشیدہ تعصبات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ کوئی معاشرہ اس سے مکمل طور پر مبرا نہیں۔ آزادی کے بعد مشرقی پاکستان میں لسانی، انتظامی اور معاشی شکایات رفتہ رفتہ شدت اختیار کرتی گئیں۔ 1948ء سے 1952ء تک جاری رہنے والا لسانی تنازع، جو 21 فروری 1952ء کے ڈھاکہ کے المناک واقعات پر منتج ہوا، اس حقیقت کو آشکار کر گیا کہ جذباتی وحدت محض آئینی اعلانات سے قائم نہیں ہوتی۔ معاشی ناہمواریاں، خواہ حقیقی ہوں یا محسوس کی گئی ہوں، بداعتمادی کو گہرا کرتی گئیں۔
بھارت نے ان دراڑوں کو خاموشی سے نہیں دیکھا۔ اس نے تعصب کو دائمی نفرت کے طور پر پیش کرنے اور انتظامی کمزوریوں کو نظریاتی بیگانگی میں بدلنے کی کوشش کی۔ پروپیگنڈے، سفارتی چالوں اور بالآخر 1971ء میں کھلی فوجی مداخلت کے ذریعے اس نے جلتی آگ پر تیل ڈالا۔ دسمبر 1971ء کا سانحہ کسی ایک سبب کا نتیجہ نہ تھا بلکہ سیاسی غلط اندازوں، داخلی کمزوریوں، بیرونی سازشوں اور ایک حقیقی شراکتی وفاقی مزاج قائم نہ کر پانے کی مجموعی ناکامی کا حاصل تھا۔ پاکستان کا دولخت ہونا اور بنگلہ دیش کا قیام جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔
آزادی کے بعد بنگلہ دیش کی بعض حکومتوں نے داخلی استحکام کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ بیانیے اس انداز سے تشکیل دیے گئے کہ تلخی کو نمایاں اور مشترکہ ورثے کو کم تر دکھایا جائے۔ بعض سیاسی قوتیں، جو بھارتی تزویراتی مفادات سے قریب تھیں، دونوں اقوام کے درمیان نفسیاتی فاصلے کو بڑھانے کی کوشش کرتی رہیں۔ ایک عرصہ تک ایسا محسوس ہوتا رہا کہ یہ دوری مستقل ہو چکی ہے۔
لیکن تاریخ کبھی یک رُخی نہیں ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بنگلہ دیش میں بہت سوں نے اپنی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کیا۔ یہ احساس کہ کہیں وہ بھارتی پالیسیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار یا اثرپذیری کا شکار نہ ہو جائیں، ان کے معاشرے میں نئی بحثوں کا باعث بنا۔ سیاسی تبدیلیوں، معاشی امنگوں اور بڑھتے ہوئے قومی اعتماد نے علاقائی تعلقات کے بارے میں زیادہ متوازن نقط? نظر کو جنم دیا۔ رفتہ رفتہ موروثی عداوت کے بادل چھٹنے لگے اور خطابت کی جگہ عملیت پسندی نے لینا شروع کی۔
آج کے حالات 1947ء جیسے نہیں اور نہ ہی تاریخ کا پہیہ الٹا گھمایا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک خودمختار اور آزاد ریاست ہے اور اس کی حالیہ معاشی پیش رفت قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان نے بھی آزمائشوں اور استقامت کے طویل سفر طے کیے ہیں۔ مگر دونوں قوموں کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی، لسانی مماثلت، مشترکہ قربانیاں اور جڑی ہوئی یادوں کا ایک خزانہ موجود ہے۔ تاریخی حقائق کی واضح پہچان—جیسے دودھ کا پانی سے الگ ہونا—نے ذمہ داریوں اور بیرونی مداخلت کے کردار کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔
جنوبی ایشیا میں خاندان کا استعارہ نہایت مؤثر ہے۔ ہمارے معاشرتی نظام میں خاندان مضبوط اور پائیدار اکائی ہے۔ بعض اوقات ناگزیر حالات کے تحت بھائیوں میں علیحدگی ہو جاتی ہے۔ جائیداد تقسیم ہو جاتی ہے، گھر جدا ہو جاتے ہیں، مگر خون کے رشتے دیواروں سے مٹائے نہیں جا سکتے۔ تعلقات میں دوری بھی آتی ہے اور دوبارہ قربت بھی۔ دانائی اس میں ہے کہ سیاسی حقائق اپنی جگہ تسلیم کرتے ہوئے بھی رشتہ داری کی روح کو زندہ رکھا جائے۔
علاقائی رقابت کا‘‘اژدہا’’ابھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوا۔ تزویراتی مقابلہ، حل طلب تنازعات اور بیرونی اثرات اب بھی برصغیر کی سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی مفاہمت کی کوشش کو احتیاط، وضاحت اور خودداری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ محض جذبات ریاستی حکمتِ عملی کی رہنمائی نہیں کر سکتے؛ حقیقت پسندی بھی لازم ہے۔ اسی کے ساتھ دائمی دشمنی نہ خوشحالی کے لیے مفید ہے نہ استحکام کے لیے۔
تاریخ کا سبق یہ نہیں کہ ماضی کو رومانوی انداز میں یاد کیا جائے یا اس کی قید میں جکڑے رہیں۔ بنگال کے مسلمان پاکستان کے معماروں میں شریک تھے اور ان کا کردار ہمیشہ قدر و منزلت کا مستحق رہے گا۔ جدائی کا سانحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ شکایات کو نظرانداز کرنا اور بیرونی مداخلت کو کم سمجھنا کس قدر مہنگا پڑتا ہے۔ موجودہ لمحہ اس بات کا متقاضی ہے کہ خودمختاری، باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر نئے پل تعمیر کیے جائیں۔
اگر اخوت کی روح کو بیدار رکھا جائے—چوکسی اور دانائی کے ساتھ—تو منقسم گھرانے بھی ہم آہنگی کی نئی راہیں پا سکتے ہیں۔ قومیں بھی خاندانوں کی طرح دکھوں سے سیکھ کر بالغ ہوتی ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ تاریخ کو مٹا دیں، بلکہ یہ ہے کہ اس سے سبق حاصل کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو نفرت کی راکھ نہیں بلکہ فہم و فراست کی روشنی ورثے میں ملے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین،اسپرنگ فیسٹیول گالا میں روبوٹس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اعتبار ہی نئی طاقت ہے امن مگر ہوشیاری کے ساتھ واشنگٹن اسٹیٹ: ایورگرین ریاست عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میں ریاستی اختیار اور انتظامی ذمہ داری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جادوئی جوش: ڈسکوری گرین پارک میں دیوہیکل ٹرافی نے ہیوسٹن کو رونق دے دیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز