ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ دشمن کے فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنائے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے حالیہ بیانات خطے میں فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور اس کا مقصد جنگ نہیں ہے، لیکن اگر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو ایران اپنے دفاع میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔

مزید پڑھیں

ایران کو جوہری معاہدے پر لانے کیلئے ٹرمپ محدود فوجی کارروائی کرسکتے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

امریکا کا ایران کو آخری پیغام؟ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا اشارہ دے دیا

خطے میں جنگ کے خدشات، پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت

ایرانی مشن نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈے، تنصیبات اور دیگر اثاثے جائز ہدف ہوں گے۔

ایران نے خط میں امریکی صدر کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں ممکنہ طور پر Diego Garcia اور RAF Fairford کے ایئر فیلڈز استعمال کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

ایرانی حکام نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل