پنجاب میں اسموگ کنٹرول کیلیے 3 ارب سے 30 جدید فوگ کینن نصب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لاہور:
پنجاب حکومت نے اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے 3 ارب روپے کی لاگت سے 30 جدید فوگ کینن الیکٹرک ٹرکوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جو بڑے شہری اور صنعتی علاقوں میں گردوغبار کم کرنے میں مدد دیں گے۔
یہ اقدام صوبائی حکومت کی جامع کلین ایئر اور کلائمیٹ ریزیلینٹ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد فضائی آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
حکام کے مطابق جدید فوگ کینن منصوبہ خاص طور پر آلودگی سے متاثرہ شہروں میں مؤثر کردار ادا کرے گا اور ہوا میں موجود مضر ذرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
لاہور ایئر امپروومنٹ فریم ورک کے تحت 2 ارب 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے صاف ہوا کے لیے مربوط پروگرام شروع کیا جائے گا۔ پہلی بار سپر اسٹیشن سسٹم کے ذریعے لاہور میں فضائی آلودگی کے ذرائع کی ریئل ٹائم نشاندہی ممکن ہوگی، جبکہ ’’ون سٹی ون پالیسی‘‘ ماڈل کے تحت جدید ایئر کوالٹی گورننس نافذ کی جائے گی۔
مزید پڑھیںعارضی بہتری یا مستقل حل؟ پنجاب میں اسموگ کی شدت میں کمی کے اسباب پر سوالات
پنجاب کے مختلف شہروں میں معمول کے مطابق دھند اور اسموگ نمایاں
اسموگ سے پیدا ہونے والے طبی مسائل، ڈائیٹ سمیت چند آسان گھریلو تدابیر
پنجاب بھر میں 50 سے زائد جدید ایئر کوالٹی مانیٹرز نصب کیے جا چکے ہیں اور آٹومیٹڈ کوالٹی ایشورنس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی یقینی بنائی جا سکے۔ صنعتی اخراج پر مؤثر کنٹرول کے لیے ڈیجیٹل ماحولیاتی مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی لیبارٹریز کی اَپ گریڈیشن، جدید آلات کی تنصیب اور اخراج کے تجزیے کے لیے خصوصی فرانزک سہولیات قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ’’انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ ڈیلوری یونٹ‘‘ قائم کی جا رہی ہے جو ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے کارکردگی کی مانیٹرنگ کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف اسموگ میں کمی آئے گی بلکہ عوامی صحت کے تحفظ اور پائیدار ماحولیاتی بہتری کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.