کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت سے جماعت اسلامی کے 30 کارکنان کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
کراچی:
انسداد دہشت گردی عدالت نے سندھ اسمبلی پر دھرنے اور ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں گرفتار جماعت اسلامی کے 30 کارکنان کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے تمام ملزمان کو فی کس 30 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کی جانب سے ایڈووکیٹ طاہر عدالت میں پیش ہوئے۔
پولیس کے مطابق ملزمان سندھ اسمبلی کے باہر واقع ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جس پر انہیں ہفتے کی شب گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ آرام باغ تھانے میں درج کیا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزمان کی رہائی ضمانتی مچلکے جمع کروانے سے مشروط ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔