ایپسٹین کے مشیروں کیخلاف مقدمہ تصفیے پر منتج، ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر آمادگی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بدنام مالیاتی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کی جائیداد نے ایک اجتماعی مقدمہ نمٹانے کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یہ مقدمہ ایپسٹین کے 2 مشیروں پر اس الزام کے تحت دائر کیا گیا تھا کہ انہوں نے کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی جنسی اسمگلنگ میں اس کی معاونت اور اعانت کی۔
یہ بھی پڑھیں:
ایپسٹین متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے جمعرات کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں اس تصفیے کا اعلان کیا۔
اگر عدالت اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو 2024 میں دائر کیا گیا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔
Jeffrey Epstein’s estate has agreed to pay as much as $35 million to resolve a class action lawsuit that accused two of the disgraced financier's advisers of aiding and abetting his sex trafficking of young women and teenage girls, according to a court filing…
— Reuters (@Reuters) February 20, 2026
مذکورہ مقدمہ ایپسٹین کی جائیداد کے شریک منتظمین اور ایپسٹین کے سابق ذاتی وکیل ڈیرن انڈائک اور سابق اکاؤنٹنٹ رچرڈ کان کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ایپسٹین کی جائیداد ایک ازالہ فنڈ قائم کر چکی ہے جس کے تحت متاثرین کو 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔
جبکہ مزید 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مختلف تصفیوں کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:
ڈیرن انڈائک اور رچرڈ کان کے وکیل ڈینیئل ایچ وینر نے ایک بیان میں کہا کہ اس تصفیے کے تحت ان کے مؤکلین نے کسی قسم کی بدعنوانی یا غلط رویے کا اعتراف نہیں کیا۔
ان کے مطابق دونوں شریک منتظمین مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے، تاہم ایپسٹین کی جائیداد کے خلاف ممکنہ تمام دعوؤں کو حتمی طور پر نمٹانے کی غرض سے ثالثی اور تصفیے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔
وینر کا کہنا تھا کہ یہ تصفیہ ان متاثرین کے لیے مالی ریلیف کا ایک خفیہ راستہ فراہم کرے گا، جنہوں نے اب تک جائیداد کے خلاف اپنے دعوے طے نہیں کیے۔
مزید پڑھیں:
جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے اور حکام کے مطابق ان کی موت خودکشی قرار دی گئی تھی۔
2024 کے مقدمے میں مدعی وکلا کا مؤقف تھا کہ انڈائک اور کان نے ایپسٹین کی مدد سے کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کا ایک پیچیدہ جال قائم کیا، جس کے ذریعے وہ اپنے جرائم چھپاتا، متاثرین اور بھرتی کرنے والوں کو ادائیگیاں کرتا اور خود بھی مالی طور پر فائدہ اٹھاتا رہا۔
مزید پڑھیں:
اسی قانونی فرم نے اس سے قبل جے پی مورگن چیس اور ڈوئچے بینک کے خلاف بھی کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 36 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے تصفیے حاصل کیے گئے تھے۔
ان بینکوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ایپسٹین جیسے منافع بخش گاہک کے بارے میں مشکوک سرگرمیوں کو نظر انداز کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اکاؤنٹنٹ تصفیے ثالثی جنسی اسمگلنگ جیفری ایپسٹین قانونی فرم مین ہیٹن وفاقی عدالت وکیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکاؤنٹنٹ تصفیے ثالثی جنسی اسمگلنگ جیفری ایپسٹین مین ہیٹن وفاقی عدالت وکیل ایپسٹین کی جائیداد لاکھ ڈالر کے خلاف کے لیے تھا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔