بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بھارتی میڈیا کے مطابق، بنگلہ دیش نے بھارتی کم لاگت ایئرلائن اسپائس جیٹ کو اس کی غیر ادا شدہ اوور فلائٹ فیس کی وجہ سے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت معطل کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا
ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAAB) نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ایئرلائن سے واجب الادا فیس وصول نہ ہو سکی۔ اس کے نتیجے میں کئی اسپائس جیٹ پروازیں، خاص طور پر کولکتہ سے شمال مشرقی بھارتی شہروں جیسے گوہاٹی اور ایمفال کے لیے چلنے والی پروازیں، طویل اور متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
متبادل راستوں کی وجہ سے پرواز کا دورانیہ اور ایندھن کا استعمال بڑھ گیا، جس سے ایئرلائن کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسپائس جیٹ کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا کہ ایئرلائن متعلقہ حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک معمول کا معاملہ ہے اور ہم جلد حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہماری پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور خدمات قواعد و ضوابط کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔
اسپائس جیٹ گزشتہ چند مہینوں سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے سہ ماہی مالیاتی رپورٹ میں ایئرلائن نے 269.
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی نئی حکومت کا صحافتی آزادی کے تحفظ کا عزم
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو کولکتہ اور شمال مشرقی بھارتی شہروں کے درمیان چلنے والی اسپائس جیٹ پروازوں نے بنگلہ دیش کی فضائی حدود سے گریز کیا اور طویل متبادل راستے اپنائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپائس جیٹ بنگلہ دیش بھارتی ایئرلائن اسپائس جیٹ بھارتی میڈیا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپائس جیٹ بنگلہ دیش بھارتی میڈیا اسپائس جیٹ بنگلہ دیش کے مطابق
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔