لاہور: نئی ہاؤسنگ سکیموں کیلئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے نئی آباد ہونے والی ہاؤسنگ سکیموں کیلئے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے فیروزپور روڈ، کاہنہ، ایل ڈی اے سٹی اور ملحقہ آبادیوں میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کی منظوری دے دی۔
حکام کے مطابق ہڈیارہ ڈرین پر لاہور کا پہلا باقاعدہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جائے گا، جو 400 کنال سے زائد رقبے پر مشتمل ہوگا، منصوبے کی مکمل فنڈنگ پنجاب حکومت کرے گی۔
یاد رہے کہ 2017-18 میں ہڈیارہ ڈرین پر اس سکیم کی ابتدائی منظوری دی گئی تھی، اب لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سی ایم پی، شعبہ انجینئرنگ اور نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) مشترکہ طور پر منصوبے کا تفصیلی پلان تیار کریں گے، ایل ڈی اے گورننگ باڈی نے منصوبے کی باقاعدہ منظوری کی سفارش بھی کر دی ہے۔
منصوبے کی تکمیل سے ہڈیارہ ڈرین میں گندے پانی کے اخراج میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی اور زیر زمین پانی کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.