لاہور ہائیکورٹ: پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تفصیلات طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے خسرہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے پنجاب بھر کے ہسپتالوں کے وینٹیلیٹر کی تفصیلات طلب کرلیں۔
جسٹس اویس خالد نے سماعت کی، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیئے، ڈی جی موذی امراض پنجاب نے ابتدائی رپورٹ عدالت پیش کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ماضی میں خسرے، ڈینگی سے سینکڑوں اموات ہوئیں، ہسپتالوں میں وینٹیلیٹر موجود نہ ہونے سے بے تحاشا اموات ہوئیں، اگر بنیادی سہولیات موجود ہوتیں تو اموات سے بچا جا سکتا تھا، عدالت خسرے سے ہونے والی اموات کی تحقیقات کا حکم دے۔
عدالت نے وینٹی لیٹرز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں