رمضان المبارک میں احتجاجی تحریک موخر کی جائے، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی جانب سے میڈیا کو مشترکہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر ہر قسم کی احتجاجی تحریک کو مؤخر کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنماؤں نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے رمضان المبارک کے دوران ہر قسم کی احتجاجی تحریک مؤخر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی جانب سے میڈیا کو مشترکہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر ہر قسم کی احتجاجی تحریک کو مؤخر کیا جائے۔ رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کیخلاف حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی باوقار طریقے سے مشکل حالات میں جیل کاٹ رہے ہیں۔
خط میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کی صحت پر سیاست بند کرے اور ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کو اعتماد میں لے کر علاج معالجے کے تمام مراحل مکمل کرے۔ اسیر رہنماؤں نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان پارلیمان کے اندر بھرپور اور مؤثر سیاسی کردار ادا کرے۔ ساتھ ہی پارٹی کے ہر سطح کے عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ تنظیم کو ازسرِنو منظم کیا جائے اور اسے نچلی سطح تک فعال بنایا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لیے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے اور کارکنان کو متحرک کیا جائے۔ رہنماؤں نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، مہنگائی اور بے روزگاری کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں سے بچوں کے باہر ہونے اور کرپشن جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں سامنے لایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک رمضان المبارک گیا ہے کہ پی ٹی آئی کیا جائے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔