شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی جانب سے میڈیا کو مشترکہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر ہر قسم کی احتجاجی تحریک کو مؤخر کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنماؤں نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے رمضان المبارک کے دوران ہر قسم کی احتجاجی تحریک مؤخر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی جانب سے میڈیا کو مشترکہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر ہر قسم کی احتجاجی تحریک کو مؤخر کیا جائے۔ رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کیخلاف حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی باوقار طریقے سے مشکل حالات میں جیل کاٹ رہے ہیں۔

خط میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کی صحت پر سیاست بند کرے اور ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کو اعتماد میں لے کر علاج معالجے کے تمام مراحل مکمل کرے۔ اسیر رہنماؤں نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان پارلیمان کے اندر بھرپور اور مؤثر سیاسی کردار ادا کرے۔ ساتھ ہی پارٹی کے ہر سطح کے عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ تنظیم کو ازسرِنو منظم کیا جائے اور اسے نچلی سطح تک فعال بنایا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لیے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے اور کارکنان کو متحرک کیا جائے۔ رہنماؤں نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، مہنگائی اور بے روزگاری کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں سے بچوں کے باہر ہونے اور کرپشن جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں سامنے لایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک رمضان المبارک گیا ہے کہ پی ٹی آئی کیا جائے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان