سکھس فار جسٹس کا تاریخی اعلان،بورڈ آف پیس کیلئے1بلین ڈالر، خالصتان ریفرنڈم کیلئے عالمی دباؤ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) سکھس فار جسٹس نے خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کیلئے ایک بڑے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بورڈ آف پیس کے پہلے سرکاری اجلاس کیلئے ایک بلین ڈالر دینے کا اعلان کر دیا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں امریکہ بھر سے سینکڑوں سکھ برادری کے ارکان نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ خالصتان کا معاملہ ایک حل طلب سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل سفارتی اور جمہوری طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے غزہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح عالمی برادری دیگر تنازعات پر توجہ دیتی ہے، اسی طرح خالصتان کے مسئلے پر بھی عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
شرکاء نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے براہِ راست بات کریں اور بھارتی زیر قبضہ پنجاب میں امریکی محکمہ خارجہ کی نگرانی میں آزادی ریفرنڈم کروانے کیلئے کردار ادا کریں۔
گُرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ خالصتان ریفرنڈم کے حامی نوجوانوں کو مبینہ جعلی مقابلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ 11 ہزار سے زائد سکھ نوجوانوں کو سیاسی عقائد کی بنیاد پر گرفتار کر کے گینگسٹر قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے قبل ایک پرامن اور جمہوری حل کیلئے نگرانی شدہ ریفرنڈم کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
احتجاج میں شریک افراد نے کہا کہ ان کا مقصد بورڈ آف پیس کا حصہ بن کر پنجاب کو بھارت سے آزاد کرانا ہے اور وہ بھارت سے جمہوری اور پرامن طریقے سے آزادی چاہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکی سیاست میں خالصتان کے مطالبے کو اجاگر کرنے اور عالمی توجہ حاصل کرنے کی ایک مؤثر کوشش ہے۔ اگرچہ اس سے بھارت اور امریکہ کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس کا بنیادی مقصد تشدد سے بچتے ہوئے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موقع سکھ کمیونٹی کیلئے ایک یادگار دن کے ساتھ ساتھ عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت بھی ہے۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔