Jasarat News:
2026-07-24@02:10:03 GMT

بلیوں کی حیاتیاتی تحقیق سے کینسر کے علاج میں نئی اُمید

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

طبی تحقیق کے میدان میں ایک دلچسپ نظریہ زور پکڑ رہا ہے کہ بلیوں میں پائے جانے والے بعض حیاتیاتی نظام انسانوں میں کینسر کے علاج کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بلیوں میں موجود بعض وائرس اور مدافعتی ردِعمل ایسے پہلو رکھتے ہیں جو انسانی بیماریوں، خصوصاً سرطان، کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

بلیوں میں پایا جانے والا فیلائن امیونوڈیفیشنسی وائرس (FIV) انسانی ایچ آئی وی سے مماثلت رکھتا ہے کیونکہ دونوں مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

ماہرین اس وائرس کے مطالعے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مدافعتی خلیات کس طرح ردِعمل ظاہر کرتے ہیں اور انہیں مضبوط بنانے کے کون سے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر امیونوتھراپی کے جدید طریقہ کار وضع کرنے کی امید کی جا رہی ہے، جس میں مریض کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف مؤثر ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

مزید برآں بلیوں میں بعض ایسے کینسر قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں میں پائے جانے والے سرطان سے کافی مشابہت رکھتے ہیں، جیسے لیمفوما اور بریسٹ کینسر۔ چونکہ یہ بیماریاں قدرتی ماحول میں جنم لیتی ہیں، اس لیے ادویات اور علاج کے حقیقی اثرات جانچنے کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ ماڈل فراہم کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کے مصنوعی ماڈلز کے مقابلے میں ایسے قدرتی کیسز زیادہ مستند نتائج دے سکتے ہیں۔

تحقیقی شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انسان اور بلی کے جینوم میں کئی حیاتیاتی راستے مشترک ہیں، خاص طور پر خلیوں کی نشوونما، ڈی این اے کی مرمت اور ٹیومر کے پھیلاؤ سے متعلق عمل۔ اسی وجہ سے ’کمپیریٹو آنکولوجی‘ یعنی انسانوں اور جانوروں میں کینسر کا مشترکہ مطالعہ ایک ابھرتا ہوا شعبہ بن چکا ہے۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس باہمی تحقیق سے نہ صرف جانوروں بلکہ انسانوں کے لیے بھی زیادہ مؤثر اور ہدفی علاج ممکن ہو سکے گا، جو مستقبل میں سرطان کے خلاف جنگ میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلیوں میں سکتے ہیں

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ