وہ وقت دور نہیں جب کمپیوٹر اسکرین کے پیچھے بیٹھے لاکھوں ملازمین کی جگہ مصنوعی ذہانت لے لے گی۔ ماہرین اسے روزگار کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کاروباری شخصیت اور سابق صدارتی امیدوار اینڈریو یانگ نے خبردار کیا ہے کہ تیز رفتار مصنوعی ذہانت کی ترقی کے باعث اگلے 12 سے 18 ماہ کے دوران امریکا میں لاکھوں ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب وہ کام چند منٹوں میں مکمل کر رہی ہے، جو پہلے ڈیزائنرز یا کمپنیاں کئی دنوں میں انجام دیتی تھیں۔ یانگ کے مطابق ان کے خاندان کے ایک فرد نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویب سائٹ چند منٹوں میں تیار کر لی، حالانکہ یہی کام پہلے کئی دن لیتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی رفتار اور کارکردگی کی قیمت ملازمتوں کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیے گوگل نے پاکستانی صارفین کو مصنوعی ذہانت کے دور میں محفوظ رہنے کے لیے تجاویز اور ٹولز فراہم کر دیے

اینڈریو یانگ نے پیشگوئی کی کہ مصنوعی ذہانت خاص طور پر مڈ کیریئر دفتری ملازمین، کال سینٹر اسٹاف، مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد، کوڈرز اور دیگر پیشہ ور افراد کے کام کو خودکار بنا دے گی۔ انہوں نے اسے سفید پوش ملازمتوں کے لیے ایک بڑا اور خطرناک مرحلہ قرار دیا۔

ان کے مطابق بہت سی ملازمتیں بنیادی طور پر معلومات کو پراسیس کرنے اور فیصلہ سازی کے لیے پیش کرنے پر مشتمل ہوتی ہیں، مگر اب مصنوعی ذہانت نہ صرف معلومات کو پراسیس کرے گی بلکہ رپورٹ تیار کرنے اور ممکنہ طور پر فیصلہ کرنے کا کام بھی خود انجام دے سکے گی۔

یانگ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایک کمپنی اپنے اخراجات کم کرنے اور کام کو خودکار بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کرے گی تو دوسری کمپنیاں بھی مسابقت کے باعث اسی راستے پر چلیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ بھی ان کمپنیوں کو انعام دیتی ہے جو اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتی ہیں، جبکہ ایسا نہ کرنے والی کمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پنجاب کابینہ کے تمام وزراء مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ لیں گے؟

انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ امریکا میں موجود تقریباً 7 کروڑ وائٹ کالر ملازمین میں سے 20 سے 50 فیصد افراد آنے والے برسوں میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت ڈیٹا اینالیسس، رپورٹ لکھنے، کوڈنگ اور کسٹمر سروس جیسے کام باآسانی انجام دے سکتی ہے۔

اینڈریو یانگ نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے سے صارفین کی خریداری، ہاؤسنگ مارکیٹ اور ٹیکس آمدن پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس سے مقامی معیشتیں متاثر ہوں گی۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے یونیورسل بیسک انکم، ملازمین کی دوبارہ تربیت کے پروگرامز اور مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات کی تجویز دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرٹیفیشل انٹیلی جنس امریکا بے روزگاری مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل انٹیلی جنس امریکا بے روزگاری مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ