اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
وہ وقت دور نہیں جب کمپیوٹر اسکرین کے پیچھے بیٹھے لاکھوں ملازمین کی جگہ مصنوعی ذہانت لے لے گی۔ ماہرین اسے روزگار کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کاروباری شخصیت اور سابق صدارتی امیدوار اینڈریو یانگ نے خبردار کیا ہے کہ تیز رفتار مصنوعی ذہانت کی ترقی کے باعث اگلے 12 سے 18 ماہ کے دوران امریکا میں لاکھوں ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب وہ کام چند منٹوں میں مکمل کر رہی ہے، جو پہلے ڈیزائنرز یا کمپنیاں کئی دنوں میں انجام دیتی تھیں۔ یانگ کے مطابق ان کے خاندان کے ایک فرد نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویب سائٹ چند منٹوں میں تیار کر لی، حالانکہ یہی کام پہلے کئی دن لیتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی رفتار اور کارکردگی کی قیمت ملازمتوں کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیے گوگل نے پاکستانی صارفین کو مصنوعی ذہانت کے دور میں محفوظ رہنے کے لیے تجاویز اور ٹولز فراہم کر دیے
اینڈریو یانگ نے پیشگوئی کی کہ مصنوعی ذہانت خاص طور پر مڈ کیریئر دفتری ملازمین، کال سینٹر اسٹاف، مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد، کوڈرز اور دیگر پیشہ ور افراد کے کام کو خودکار بنا دے گی۔ انہوں نے اسے سفید پوش ملازمتوں کے لیے ایک بڑا اور خطرناک مرحلہ قرار دیا۔
ان کے مطابق بہت سی ملازمتیں بنیادی طور پر معلومات کو پراسیس کرنے اور فیصلہ سازی کے لیے پیش کرنے پر مشتمل ہوتی ہیں، مگر اب مصنوعی ذہانت نہ صرف معلومات کو پراسیس کرے گی بلکہ رپورٹ تیار کرنے اور ممکنہ طور پر فیصلہ کرنے کا کام بھی خود انجام دے سکے گی۔
یانگ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایک کمپنی اپنے اخراجات کم کرنے اور کام کو خودکار بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کرے گی تو دوسری کمپنیاں بھی مسابقت کے باعث اسی راستے پر چلیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ بھی ان کمپنیوں کو انعام دیتی ہے جو اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتی ہیں، جبکہ ایسا نہ کرنے والی کمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب کابینہ کے تمام وزراء مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ لیں گے؟
انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ امریکا میں موجود تقریباً 7 کروڑ وائٹ کالر ملازمین میں سے 20 سے 50 فیصد افراد آنے والے برسوں میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت ڈیٹا اینالیسس، رپورٹ لکھنے، کوڈنگ اور کسٹمر سروس جیسے کام باآسانی انجام دے سکتی ہے۔
اینڈریو یانگ نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے سے صارفین کی خریداری، ہاؤسنگ مارکیٹ اور ٹیکس آمدن پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس سے مقامی معیشتیں متاثر ہوں گی۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے یونیورسل بیسک انکم، ملازمین کی دوبارہ تربیت کے پروگرامز اور مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات کی تجویز دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹیفیشل انٹیلی جنس امریکا بے روزگاری مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل انٹیلی جنس امریکا بے روزگاری مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔