بلیوں میں پائے جانے والے کچھ حیاتیاتی نظام اور بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت انسانوں میں کینسر کے علاج کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

بلیوں میں ایک وائرس پایا جاتا ہے جسے FIV) Feline Immunodeficiency Virus) کہتے ہیں، جو انسانی ایچ آئی وی سے ملتا جلتا ہے۔ چونکہ دونوں وائرس مدافعتی نظام پر حملہ کرتے ہیں، اس لیے سائنس دان بلیوں پر ہونے والی تحقیق سے قوتِ مدافعت کے ردِعمل کو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں۔

اسی طرح سائنسدان امیونوتھراپی کے نئے طریقے دریافت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق کینسر کے علاج میں مدافعتی خلیوں کو مضبوط یا ہدفی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب بلیوں میں کئی ایسے کینسر قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں میں پائے جانے والے کینسر سے بہت ملتے جلتے ہیں جیسے لیمفوما اور چھاتی کا کینسر۔ کیونکہ یہ کینسر قدرتی ماحول میں بنتے ہیں اس لیے ادویات کے حقیقی اثرات جانچنے میں مدد ملتی ہے اور نئی تھراپیوں کی آزمائش زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی ہے۔

انسان اور بلی کے جینوم میں کئی حیاتیاتی راستے بھی مشترک ہیں، خاص طور پر سیل گروتھ کنٹرول، ڈی این اے مرمت کے نظام اور ٹیومر کے پھیلاؤ کا عمل۔

یہی وجہ ہے کہ سرطان شناسی ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس میں جانوروں اور انسانوں میں کینسر کا مشترکہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلیوں میں

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی