انسانوں میں کینسر کے علاج کی کلید بلیوں میں چھُپی ہوسکتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بلیوں میں پائے جانے والے کچھ حیاتیاتی نظام اور بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت انسانوں میں کینسر کے علاج کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
بلیوں میں ایک وائرس پایا جاتا ہے جسے FIV) Feline Immunodeficiency Virus) کہتے ہیں، جو انسانی ایچ آئی وی سے ملتا جلتا ہے۔ چونکہ دونوں وائرس مدافعتی نظام پر حملہ کرتے ہیں، اس لیے سائنس دان بلیوں پر ہونے والی تحقیق سے قوتِ مدافعت کے ردِعمل کو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں۔
اسی طرح سائنسدان امیونوتھراپی کے نئے طریقے دریافت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق کینسر کے علاج میں مدافعتی خلیوں کو مضبوط یا ہدفی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
دوسری جانب بلیوں میں کئی ایسے کینسر قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں میں پائے جانے والے کینسر سے بہت ملتے جلتے ہیں جیسے لیمفوما اور چھاتی کا کینسر۔ کیونکہ یہ کینسر قدرتی ماحول میں بنتے ہیں اس لیے ادویات کے حقیقی اثرات جانچنے میں مدد ملتی ہے اور نئی تھراپیوں کی آزمائش زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی ہے۔
انسان اور بلی کے جینوم میں کئی حیاتیاتی راستے بھی مشترک ہیں، خاص طور پر سیل گروتھ کنٹرول، ڈی این اے مرمت کے نظام اور ٹیومر کے پھیلاؤ کا عمل۔
یہی وجہ ہے کہ سرطان شناسی ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس میں جانوروں اور انسانوں میں کینسر کا مشترکہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلیوں میں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔