دھمکیوں کے الزامات، ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم کی مبینہ چیٹس منظرعام پر لادیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستانی آل راؤنڈر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے سوشل میڈیا پر مبینہ واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کر دیے ہیں، جن میں انہوں نے کرکٹر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ثانیہ اشفاق نے انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے پیغامات میں بے وفائی، بچوں کو نظر انداز کرنے اور اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے جیسے الزامات لگائے۔ ان کے مطابق جولائی 2025 کی چیٹس میں مبینہ طور پر عماد وسیم نے خبردار کیا کہ اگر ان سے یا اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔شیئر کیے گئے اسکرین شاٹس کے مطابق اس وقت حاملہ ثانیہ اشفاق نے بچے کی پیدائش کے موقع پر عماد وسیم سے موجود رہنے کی درخواست کی تھی، تاہم انہیں سخت جواب ملا اور مبینہ طور پر شرائط پوری نہ کرنے کی صورت میں پولیس میں شکایت کی دھمکی دی گئی۔ اس سے قبل بھی انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر 2023 میں انہیں اسقاطِ حمل پر مجبور کیا گیا، اور اپنے الزامات کے ثبوت موجود ہونے کا بھی کہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ثانیہ اشفاق نے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔