آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار، مہنگائی میں کمی کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں معیشت میں استحکام آیا ہے۔
واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ فنڈ کا وفد رواں ماہ (25 فروری) سے پاکستان کا دورہ کرے گا جہاں توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی اصلاحات سے مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور مالی سال 2025 میں پاکستان نے جی ڈی پی کے 1.
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو گزشتہ برسوں میں شدید معاشی دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا رہا۔
آئی ایم ایف کے مطابق مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے عام شہریوں پر دباؤ نسبتاً کم ہوا۔
مزید برآں پاکستان نے 14 برس بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو بیرونی شعبے میں بہتری کی علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات میں اعتدال، برآمدات میں اضافہ اور ترسیلات زر کے مستحکم بہاؤ نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔
آنے والے جائزے میں ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔ حکومتی حلقے اس پیش رفت کو اعتماد کی بحالی قرار دے رہے ہیں جبکہ کاروباری برادری اسے سرمایہ کاری کے لیے مثبت اشارہ سمجھ رہی ہے۔
اگر مذاکرات کامیاب رہے تو پاکستان کو آئندہ قسط کے اجرا کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید مستحکم ہوں گے اور معاشی بحالی کا عمل تقویت پائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔