ایران کا اقوام متحدہ کو خط، فوجی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن جواب کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے ممکنہ امریکی فوجی حملے کے پیش نظر اقوام متحدہ کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط میں لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
خط کے متن کے مطابق ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ اس کا مقصد ہے، تاہم اگر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
ایران نے خط میں مزید کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
خط میں امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو ڈیگو گارشیا اور آر اے ایف فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈ استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ ایران نے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔