مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوڑی میں عسکریت پسندوں سے ایک جھڑپ میں 4 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر کئی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ کارروائی راجوڑی کے علاقے سندربنی اور دیگر مقامات پر نامعلوم افراد کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد شروع کی گئی۔ بھارتی فوج نے علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن (سی اے ایس او) کا آغاز کیا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے قریب مشتبہ نقل و حرکت کا دعویٰ

بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پر 19 فروری 2026 کی علی الصبح سندربنی کے علاقے ناتھوا تِبہ، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہے، میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی۔

حکام کے مطابق اس کے بعد زمینی آپریشن کے ساتھ فضائی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

فوجی کیمپ پر حملے کی اطلاعات

دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ علاقے میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار ہلاک جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک ویڈیو میں، جس میں مبینہ طور پر ایک بھارتی فوجی افسر کو دکھایا گیا ہے، متعدد فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اس ویڈیو کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

واقعے سے متعلق مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج علاقے میں

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی