مودی حکومت جامعات میں تعلیمی آزادی محدود کرنے میں مصروف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت میں تعلیمی آزادی اور اظہارِ رائے کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث جامعات میں اختلافی آوازوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مبصرین کے مطابق مذہبی و نسلی اقلیتوں سے متعلق موضوعات، ذات پات کے نظام، قوم پرستی یا ریاستی پالیسیوں پر تنقیدی مباحث کو اکثر سیاسی رنگ دے کر محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نئی دہلی میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس کو سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق تعلیمی اداروں میں سنسرشپ کا رجحان بتدریج بڑھ رہا ہے اور حساس موضوعات پر کھلے مباحث کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
مزید یہ کہ عوامی فنڈنگ فراہم کرنے والے ادارے، جیسے انڈین کونسل آف کونسل سائنس ریسرچ پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ تحقیق کے انتخاب میں حکومتی بیانیے کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تحقیق اور تدریس کو سیاسی زاویے سے جانچا جائے تو علمی آزادی متاثر ہوتی ہے اور جامعات اپنی اصل روح کھو دیتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو معاشرہ فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا استدلال ہے کہ جمہوری معاشروں کی بنیاد آزادانہ مکالمے پر ہوتی ہے اور اگر جامعات میں یہ روایت کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں۔
اس بحث نے بھارت میں تعلیمی ماحول، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوری اقدار کے مستقبل پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔