ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی بڑی پیش رفت، فری لانسرز نے تاریخی زرمبادلہ کما لیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی سیکٹر نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی معاونت سے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی ٹیکنالوجی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 557 ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ کما کر نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ رقم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جو ڈیجیٹل شعبے کی غیر معمولی ترقی کی عکاس ہے۔
دبئی اور عمان کے مسیحی وفد کی سفیر پاکستان برائے عمان سید نوید صفدر بخاری سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو
یہ کامیابی اس بات کی واضح علامت ہے کہ پاکستان تیزی سے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائن اور ای کامرس کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہتر سہولیات، ہدفی تربیتی پروگرامز اور معاون ڈیجیٹل ایکو سسٹم نے ملک میں فری لانسر معیشت کی تیز رفتار ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 170 سے زائد وینچر کیپیٹل سے معاونت یافتہ اسٹارٹ اپس سرگرم عمل ہیں، جن کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ وینچر کیپیٹل اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی ترقی کی رفتار نے بھارت، دبئی اور نیویارک جیسے علاقائی و عالمی مارکیٹس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چوہدری ارمغان سبحانی اور رانا فیاض عمرہ کی سعادت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔