Jasarat News:
2026-06-02@23:11:24 GMT

ماہِ رمضان ترقی کا مہینہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اس دنیا میں انسان کی ترقی یہ ہے کہ اس کی بندگی کی سطح درجہ بہ درجہ اونچی ہوتی رہے۔ اس کے لیے خصوصی توجہ اور ریاضت درکار ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان میں محنت و ریاضت کا ماحول ہوتا ہے۔ بندگی کے اس موسمِ بہار میں اگر اس پہلو کی طرف خاص توجہ ہوجائے تو ہر سال بندگی کی سطح پہلے سے بلند ہوجائے۔ جنھیں تہجد پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی وہ تہجد گزار بندے بن سکتے ہیں۔ جنھیں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا خیال نہیں آتا ہے وہ متصدقین کے گروہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ جن کے شب و روز کا بڑا حصہ غفلت کی نظر ہوجاتا ہے وہ ذاکرین اللہ کثیرا کی حسین و جمیل صفت سے متصف ہوسکتے ہیں۔ جو اللہ کی کتاب قرآن مجید سے غافل ہیں وہ قرآن والے ہوسکتے ہیں۔ جو پورے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوئے، وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں۔
بندگی کی موجودہ سطح پر مطمئن ہونے کے بجائے اپنا معیار بلند کیجیے اور پہلے سے زیادہ عبادت گذار بن جائیے۔

آپ کا حقیقی زیور آپ کی اعلی صفات ہیں۔ ماہِ رمضان میں بہت سی اعلی صفات سے آپ اپنی شخصیت کو آراستہ کر سکتے ہیں۔ اعلی صفات کی نشو و نما کے لیے رمضان کا موسم بہت ساز گار ہوتا ہے۔ روزہ صرف بھوک پیاس کا احساس نہیں ہے۔ روزہ انسان کی بہت سی خوبیوں کے لیے غذا فراہم کرتا ہے۔ صبر کی صفت، ہم دردی کی صفت، جود و سخاوت کی صفت، خیر پسندی کی صفت، امن پسندی کی صفت، خود احتسابی کی صفت، غرض بہت سی صفات ہیں جو روزے کے نتیجے میں نشو و نما پاتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے نیت اور توجہ ضروری ہے۔ بارش کا موسم کھیتوں میں اگائی گئی بالیوں کو شادابی عطا کرتا ہے، لیکن اگر کسان کی توجہ نہ ہو تو بارشوں کے نتیجے میں اگنے اور پھیلنے والی گھانس بالیوں کی نشو ونما متاثر کردیتی ہے۔ ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم ہے، لیکن نیکیوں کی نشو ونما جبھی ہوگی جب ادھر خاص توجہ دی جائے گی۔
ماہِ رمضان روحانیت کے عروج کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جسم پر روح کا بول بالا ہوتا ہے۔ جسمانی تقاضوں کو دبا کر روحانی تقاضوں کی تکمیل کی جاتی ہے۔ اگر اس پورے مہینے میں جسم کی طرف توجہ صرف ضرورت کے بقدر رہے اور ساری توجہ روح کی طرف رہے تو روحانی قوت میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اس مہینے میں بھی زیادہ توجہ جسمانی تقاضوں کی طرف رہی، لذت کام و دہن کی فکر زیادہ رہی، رمضان کی روح پرور راتیں کھانے کے ہوٹلوں کی نذر ہوتی رہیں، روزے سے زیادہ توجہ افطار اور سحری پر رہی تو جسم کے وزن میں بلاشبہ خوب اضافہ ہوگا، لیکن روحانی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں ، روزہ رکھنے کے لیے سحری اور افطار کا اہتمام ہونا چاہیے، نہ کہ سحری اور افطار کی خاطر روزے رکھےجائیں۔ رمضان کو لذیذ کھانوں کے لیے نہیں بلکہ بھوک اور پیاس کے لیے یاد کیا جائے۔
کہیں روزے پہ روزے صرف پانی پی کے کھلتے ہیں
کہیں بس نام پہ روزوں کے افطاری کی باتیں ہیں

رمضان میں جب آپ مادی تقاضوں پر روحانی تقاضوں کو غالب کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیں، تو اس تجربے سے پوری زندگی فائدہ اٹھائیں۔
موجودہ دور کے انسان پر مادی سوچ کا تسلط رہتا ہے۔ مادی تقاضوں کے بارے میں وہ اتنا فکر مند رہتا ہے کہ اخلاقی اور روحانی تقاضوں کی طرف اسے توجہ دینے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔ مادی تقاضوں پر ارتکاز انسان کی شخصیت کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے اور اس کی الجھنوں اور پریشانیوں میں مسلسل اضافہ کرتا ہے۔ رمضان کے کامیاب روحانی تجربے کے بعد انسان کی کیفیت تبدیل ہونا چاہیے۔ وہ دنیا کے نفع نقصان سے زیادہ آخرت کے نفع نقصان کے بارے میں فکر مند ہوجائے۔
اس دور کے انسان کی سب سے بڑی آزادی یہی ہے کہ وہ مادیت کی بھاری بیڑیوں سے اپنے بوجھل وجود کو آزاد کر لے۔
ماہِ رمضان نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا مہینہ ہے۔ آپ روزے کی حالت میں کئی طرح کی خواہشات کو آپ اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔
دنیا کے سارے فتنہ وفساد کی جڑ نفس پرستی ہے۔ انسان کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں۔ یہ نفسانی خواہشات ہی ہیں جو اسے زندگی کے اعلی مقصد سے غافل کردیتی ہیں۔

آپ نے رمضان کے مہینے میں اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے میں ایک طرح کی کامیابی حاصل کی ہے۔ رمضان بعد اس کامیابی کو ناکامی سے نہ بدلیں۔ بھوک اور پیاس کی شدید خواہش پر آپ نے قابو پاکر اپنے آپ کو طاقت ور بنالیا ہے۔ اب اس طاقت کا بھرپور استعمال کریں اور ہر طرح کی نفسانی خواہشات کو ان کے طے کردہ حدود میں رکھیں۔
جسم اور جسم کے لباس کی گندگی انسان کو برداشت نہیں ہوتی۔ انسان یہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے جسم ولباس کی گندگی محسوس کریں۔ اس لیے لوگوں کے محسوس کرنے سے پہلے وہ خود محسوس کرتا اور جلدی سے دور کرتا ہے۔

دل کے اندر کی گندگی دوسروں کو نظر نہیں آتی ہے، اس لیے انسان خود بھی انھیں دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ہے۔ انسان کی یہ کم زوری ہے کہ وہ نظر آنے والی بیرونی گندگی کو برداشت نہیں کرتا ہے اور اندرونی گندگی کے ساتھ، جو نظر نہیں آتی، بخوشی گزارا کرلیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دل کی صفائی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ دل کی طرف اللہ کی خاص توجہ ہوتی ہے۔ اگر ہم جسم اور لباس کی صفائی کا خیال اس لیے رکھتے ہیں کہ انسانوں کی توجہ ادھر جاتی ہے تو دل کی صفائی کا خیال اور زیادہ رکھنا چاہیے، یہ سوچ کر کہ اللہ کی خاص توجہ دل کی طرف ہوتی ہے۔
روزہ ایک طرح سے باطنی کیفیت ہے۔ بظاہر سب کی طرح نظر آنا والا روزے دار شخص اندر سے سب سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ اللہ کو راضی کرنے کے باطنی جذبے سے اپنے اندرون میں بھوک اور پیاس کی لذت کو محسوس کرتا ہے۔ روزے میں اپنے اندرون کی طرف دیکھنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اندر کی ہر گندگی صاف کر ڈالیں۔ بغض، کینہ، نفرت، حسد، جلن، تکبّر، گھمنڈ، ریا کاری اور ان گندگیوں کے علاوہ لوگوں سے بہت سی چھوٹی بڑی شکایتیں جو (دلی کی فضائی آلودگی کی طرح) دل کی فضا کو آلودہ رکھتی ہیں۔
انسان کی معمول کی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جن میں وہ روزانہ ہی مصروف رہتا ہے۔ تاہم خاص مواقع کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ بندہ مومن کی زندگی کا بہت خاص موقع ہوتا ہے۔ ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ وقت رمضان والے کاموں کے لیے نکالنا چاہیے۔ قرآن کی تلاوت و تدبر، راتوں کو قیام لیل، خوب خوب ذکر و دعا، فقرا و مساکین پر زیادہ سے زیادہ انفاق، اپنے نفس کا جائزہ اور تزکیہ نفس کی تدبیریں۔

لایعنی اور غیر مفید کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا تو کبھی بھی درست نہیں ہوتا ہے، لیکن رمضان کے مبارک مہینے کی کسی قیمتی ساعت کو ضائع کرنا تو بہت بڑی نادانی ہے۔
رمضان کے مہینے میں جب آپ لغو اور فضول کاموں سے اجتناب کرکے بہترین کاموں میں اپنا وقت لگاتے ہیں تو دراصل آپ اپنے وقت کے سلسلے میں بہترین رویے سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ آپ وقت ضائع کرنے کے بجائے وقت مفید بنانے کا قیمتی تجربہ کرتے ہیں۔ اتنی زبردست آگہی کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ ماہِ رمضان کے بعد بھی آپ اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنا پسند کرنے لگیں گے۔
ماہِ رمضان میں اللہ کے رسولؐ کی سب سے خاص سرگرمی قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور وفکر ہوتی تھی۔ ماہِ رمضان کا قرآن مجید سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ماہِ رمضان میں آپ کا بھی قرآن مجید سے تعلق بہت مضبوط ہوجانا چاہیے۔ اپنی گفتگو کو قرآن سے مربوط کردیجیے۔ قرآن کی باتیں آپ کی باتوں کا موضوع بن جائیں۔ گھر میں بھی قرآنی گفتگو ہو اور گھر سے باہر بھی قرآنی گفتگو ہو۔ اپنی فکر کو بھی قران سے وابستہ کردیجیے۔ قرآن جن موضوعات کو پیش کرتا ہے، ان موضوعات پر زیادہ سے زیادہ سوچیں اور غور کریں۔ قرآن سے اپنے لگاؤ کو بڑھائیں اور دوسروں کے اندر بھی قرآن سے لگاؤ بڑھانے کی کوشش کریں۔ یقین رکھیں آپ کی کامیابی قرآن سے وابستہ ہے۔ قرآن سے ایمان بڑھتا ہے۔ قرآن سے احسان کی راہیں کھلتی ہیں۔ قرآن سے حکمت و دانائی ملتی ہے۔ قرآن سے سوز و گداز ملتا ہے۔ قرآن سے بلندیوں کی طرف لے جانا والا زینہ ملتا ہے۔ قرآن سے حقیقی کامیابی کا راز کھلتا ہے۔ قرآن والا ہی حقیقت میں اللہ والا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے، آپ کو اس طرح سے کوئی دوسرا انسان نہیں دیکھ سکتا، جس طرح سے خود آپ اپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے آپ کو خوب اچھی طرح دیکھیے۔ جان لیجیے کہ آپ اپنے بارے میں جتنا جانیں گے اتنا ہی فائدے میں رہیں گے۔ آپ اپنے آپ کو اس نگاہ سے نہ دیکھیں، جس نگاہ سے دوسرے آپ کو دیکھتے ہیں یا آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے دیکھیں۔ اپنے آپ کو اصلاح کی نگاہ سے دیکھیں، مدح و تعریف کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔

برائی کو جاننے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ اگر دوسرا آپ کے ساتھ کرے تو آپ کو برا لگے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ دوسرے کے تعلق سے ایک کام کریں اور آپ کو ذرا خراب نہیں لگے، لیکن دوسرا آپ کے تعلق سے وہی کام کرے اور آپ کو بہت برا لگے۔ یہ خیر و شر کو جاننے کا ایک پیمانہ ہے جو اللہ تعالی نے انسانوں کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ آپ دوسروں کی غیبت کرتے ہوئے خوب لذت پاتے ہیں ، لیکن جب آپ کو خبر ملتی ہے کہ کسی نے آپ کی غیبت کی ہے تو آپ کو بہت خراب لگتا ہے اور آپ کے دل میں اس کے لیے نفرت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ غیبت ایک بڑی برائی ہے۔ غیبت کرنا بھی اور غیبت سننا بھی۔ لیکن یہ برائی اس طرح شخصیت کا حصہ بنی رہتی ہے کہ ادھر توجہ ہی نہیں جاتی۔ ایسی بے شمار برائیاں ہیں جو ہماری شخصیت کے درو دیوار پر تعفن کی طرح لگی ہوتی ہیں اور ہم انھیں رنگ و روغن سمجھ کر نظر انداز کررہے ہوتے ہیں۔ جس طرح شان دار محل کی دیواروں کا تعفن ان کے رنگ و روغن کو چھپالیتا ہے، اسی طرح شخصیت کو لاحق خرابیاں شخصیت کے حسن کو داغ دار کرتی ہیں۔ جس دن ہم نے اپنی شخصیت سے تعفن کو صاف کرنا شروع کردیا، شخصیت کی آب و تاب بڑھنے لگے گی۔
ماہِ رمضان بلندیوں پر لے جانا والا مہینہ ہے۔ ان بلندیوں تک پہنچنے اور ثابت قدمی کے ساتھ وہیں رک جانے کا عزم کریں۔ ماہِ رمضان کے بعد آپ کی الٹے پاؤں واپسی شروع نہ ہوجائے، اس کے لیے اپنی پرانی بیماریوں سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ماہِ رمضان کو ہماری فلاح کا مہینہ بنا دے۔

محی الدین غازی گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نفسانی خواہشات اپنے ا پ کو خواہشات کو ہوسکتے ہیں مہینے میں اس کے لیے بھی قرا ن انسان کی خاص توجہ سے زیادہ کا مہینہ رمضان کے ا پ اپنے ملتا ہے ہوتا ہے کرتا ہے نگاہ سے ہے کہ ا کے بعد ہے اور بہت سی کی طرف کی صفت کی طرح اس لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق