ماہِ رمضان ترقی کا مہینہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اس دنیا میں انسان کی ترقی یہ ہے کہ اس کی بندگی کی سطح درجہ بہ درجہ اونچی ہوتی رہے۔ اس کے لیے خصوصی توجہ اور ریاضت درکار ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان میں محنت و ریاضت کا ماحول ہوتا ہے۔ بندگی کے اس موسمِ بہار میں اگر اس پہلو کی طرف خاص توجہ ہوجائے تو ہر سال بندگی کی سطح پہلے سے بلند ہوجائے۔ جنھیں تہجد پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی وہ تہجد گزار بندے بن سکتے ہیں۔ جنھیں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا خیال نہیں آتا ہے وہ متصدقین کے گروہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ جن کے شب و روز کا بڑا حصہ غفلت کی نظر ہوجاتا ہے وہ ذاکرین اللہ کثیرا کی حسین و جمیل صفت سے متصف ہوسکتے ہیں۔ جو اللہ کی کتاب قرآن مجید سے غافل ہیں وہ قرآن والے ہوسکتے ہیں۔ جو پورے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوئے، وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں۔
بندگی کی موجودہ سطح پر مطمئن ہونے کے بجائے اپنا معیار بلند کیجیے اور پہلے سے زیادہ عبادت گذار بن جائیے۔
آپ کا حقیقی زیور آپ کی اعلی صفات ہیں۔ ماہِ رمضان میں بہت سی اعلی صفات سے آپ اپنی شخصیت کو آراستہ کر سکتے ہیں۔ اعلی صفات کی نشو و نما کے لیے رمضان کا موسم بہت ساز گار ہوتا ہے۔ روزہ صرف بھوک پیاس کا احساس نہیں ہے۔ روزہ انسان کی بہت سی خوبیوں کے لیے غذا فراہم کرتا ہے۔ صبر کی صفت، ہم دردی کی صفت، جود و سخاوت کی صفت، خیر پسندی کی صفت، امن پسندی کی صفت، خود احتسابی کی صفت، غرض بہت سی صفات ہیں جو روزے کے نتیجے میں نشو و نما پاتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے نیت اور توجہ ضروری ہے۔ بارش کا موسم کھیتوں میں اگائی گئی بالیوں کو شادابی عطا کرتا ہے، لیکن اگر کسان کی توجہ نہ ہو تو بارشوں کے نتیجے میں اگنے اور پھیلنے والی گھانس بالیوں کی نشو ونما متاثر کردیتی ہے۔ ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم ہے، لیکن نیکیوں کی نشو ونما جبھی ہوگی جب ادھر خاص توجہ دی جائے گی۔
ماہِ رمضان روحانیت کے عروج کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جسم پر روح کا بول بالا ہوتا ہے۔ جسمانی تقاضوں کو دبا کر روحانی تقاضوں کی تکمیل کی جاتی ہے۔ اگر اس پورے مہینے میں جسم کی طرف توجہ صرف ضرورت کے بقدر رہے اور ساری توجہ روح کی طرف رہے تو روحانی قوت میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اس مہینے میں بھی زیادہ توجہ جسمانی تقاضوں کی طرف رہی، لذت کام و دہن کی فکر زیادہ رہی، رمضان کی روح پرور راتیں کھانے کے ہوٹلوں کی نذر ہوتی رہیں، روزے سے زیادہ توجہ افطار اور سحری پر رہی تو جسم کے وزن میں بلاشبہ خوب اضافہ ہوگا، لیکن روحانی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں ، روزہ رکھنے کے لیے سحری اور افطار کا اہتمام ہونا چاہیے، نہ کہ سحری اور افطار کی خاطر روزے رکھےجائیں۔ رمضان کو لذیذ کھانوں کے لیے نہیں بلکہ بھوک اور پیاس کے لیے یاد کیا جائے۔
کہیں روزے پہ روزے صرف پانی پی کے کھلتے ہیں
کہیں بس نام پہ روزوں کے افطاری کی باتیں ہیں
رمضان میں جب آپ مادی تقاضوں پر روحانی تقاضوں کو غالب کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیں، تو اس تجربے سے پوری زندگی فائدہ اٹھائیں۔
موجودہ دور کے انسان پر مادی سوچ کا تسلط رہتا ہے۔ مادی تقاضوں کے بارے میں وہ اتنا فکر مند رہتا ہے کہ اخلاقی اور روحانی تقاضوں کی طرف اسے توجہ دینے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔ مادی تقاضوں پر ارتکاز انسان کی شخصیت کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے اور اس کی الجھنوں اور پریشانیوں میں مسلسل اضافہ کرتا ہے۔ رمضان کے کامیاب روحانی تجربے کے بعد انسان کی کیفیت تبدیل ہونا چاہیے۔ وہ دنیا کے نفع نقصان سے زیادہ آخرت کے نفع نقصان کے بارے میں فکر مند ہوجائے۔
اس دور کے انسان کی سب سے بڑی آزادی یہی ہے کہ وہ مادیت کی بھاری بیڑیوں سے اپنے بوجھل وجود کو آزاد کر لے۔
ماہِ رمضان نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا مہینہ ہے۔ آپ روزے کی حالت میں کئی طرح کی خواہشات کو آپ اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔
دنیا کے سارے فتنہ وفساد کی جڑ نفس پرستی ہے۔ انسان کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں۔ یہ نفسانی خواہشات ہی ہیں جو اسے زندگی کے اعلی مقصد سے غافل کردیتی ہیں۔
آپ نے رمضان کے مہینے میں اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے میں ایک طرح کی کامیابی حاصل کی ہے۔ رمضان بعد اس کامیابی کو ناکامی سے نہ بدلیں۔ بھوک اور پیاس کی شدید خواہش پر آپ نے قابو پاکر اپنے آپ کو طاقت ور بنالیا ہے۔ اب اس طاقت کا بھرپور استعمال کریں اور ہر طرح کی نفسانی خواہشات کو ان کے طے کردہ حدود میں رکھیں۔
جسم اور جسم کے لباس کی گندگی انسان کو برداشت نہیں ہوتی۔ انسان یہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے جسم ولباس کی گندگی محسوس کریں۔ اس لیے لوگوں کے محسوس کرنے سے پہلے وہ خود محسوس کرتا اور جلدی سے دور کرتا ہے۔
دل کے اندر کی گندگی دوسروں کو نظر نہیں آتی ہے، اس لیے انسان خود بھی انھیں دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ہے۔ انسان کی یہ کم زوری ہے کہ وہ نظر آنے والی بیرونی گندگی کو برداشت نہیں کرتا ہے اور اندرونی گندگی کے ساتھ، جو نظر نہیں آتی، بخوشی گزارا کرلیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دل کی صفائی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ دل کی طرف اللہ کی خاص توجہ ہوتی ہے۔ اگر ہم جسم اور لباس کی صفائی کا خیال اس لیے رکھتے ہیں کہ انسانوں کی توجہ ادھر جاتی ہے تو دل کی صفائی کا خیال اور زیادہ رکھنا چاہیے، یہ سوچ کر کہ اللہ کی خاص توجہ دل کی طرف ہوتی ہے۔
روزہ ایک طرح سے باطنی کیفیت ہے۔ بظاہر سب کی طرح نظر آنا والا روزے دار شخص اندر سے سب سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ اللہ کو راضی کرنے کے باطنی جذبے سے اپنے اندرون میں بھوک اور پیاس کی لذت کو محسوس کرتا ہے۔ روزے میں اپنے اندرون کی طرف دیکھنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اندر کی ہر گندگی صاف کر ڈالیں۔ بغض، کینہ، نفرت، حسد، جلن، تکبّر، گھمنڈ، ریا کاری اور ان گندگیوں کے علاوہ لوگوں سے بہت سی چھوٹی بڑی شکایتیں جو (دلی کی فضائی آلودگی کی طرح) دل کی فضا کو آلودہ رکھتی ہیں۔
انسان کی معمول کی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جن میں وہ روزانہ ہی مصروف رہتا ہے۔ تاہم خاص مواقع کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ بندہ مومن کی زندگی کا بہت خاص موقع ہوتا ہے۔ ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ وقت رمضان والے کاموں کے لیے نکالنا چاہیے۔ قرآن کی تلاوت و تدبر، راتوں کو قیام لیل، خوب خوب ذکر و دعا، فقرا و مساکین پر زیادہ سے زیادہ انفاق، اپنے نفس کا جائزہ اور تزکیہ نفس کی تدبیریں۔
لایعنی اور غیر مفید کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا تو کبھی بھی درست نہیں ہوتا ہے، لیکن رمضان کے مبارک مہینے کی کسی قیمتی ساعت کو ضائع کرنا تو بہت بڑی نادانی ہے۔
رمضان کے مہینے میں جب آپ لغو اور فضول کاموں سے اجتناب کرکے بہترین کاموں میں اپنا وقت لگاتے ہیں تو دراصل آپ اپنے وقت کے سلسلے میں بہترین رویے سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ آپ وقت ضائع کرنے کے بجائے وقت مفید بنانے کا قیمتی تجربہ کرتے ہیں۔ اتنی زبردست آگہی کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ ماہِ رمضان کے بعد بھی آپ اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنا پسند کرنے لگیں گے۔
ماہِ رمضان میں اللہ کے رسولؐ کی سب سے خاص سرگرمی قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور وفکر ہوتی تھی۔ ماہِ رمضان کا قرآن مجید سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ماہِ رمضان میں آپ کا بھی قرآن مجید سے تعلق بہت مضبوط ہوجانا چاہیے۔ اپنی گفتگو کو قرآن سے مربوط کردیجیے۔ قرآن کی باتیں آپ کی باتوں کا موضوع بن جائیں۔ گھر میں بھی قرآنی گفتگو ہو اور گھر سے باہر بھی قرآنی گفتگو ہو۔ اپنی فکر کو بھی قران سے وابستہ کردیجیے۔ قرآن جن موضوعات کو پیش کرتا ہے، ان موضوعات پر زیادہ سے زیادہ سوچیں اور غور کریں۔ قرآن سے اپنے لگاؤ کو بڑھائیں اور دوسروں کے اندر بھی قرآن سے لگاؤ بڑھانے کی کوشش کریں۔ یقین رکھیں آپ کی کامیابی قرآن سے وابستہ ہے۔ قرآن سے ایمان بڑھتا ہے۔ قرآن سے احسان کی راہیں کھلتی ہیں۔ قرآن سے حکمت و دانائی ملتی ہے۔ قرآن سے سوز و گداز ملتا ہے۔ قرآن سے بلندیوں کی طرف لے جانا والا زینہ ملتا ہے۔ قرآن سے حقیقی کامیابی کا راز کھلتا ہے۔ قرآن والا ہی حقیقت میں اللہ والا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے، آپ کو اس طرح سے کوئی دوسرا انسان نہیں دیکھ سکتا، جس طرح سے خود آپ اپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے آپ کو خوب اچھی طرح دیکھیے۔ جان لیجیے کہ آپ اپنے بارے میں جتنا جانیں گے اتنا ہی فائدے میں رہیں گے۔ آپ اپنے آپ کو اس نگاہ سے نہ دیکھیں، جس نگاہ سے دوسرے آپ کو دیکھتے ہیں یا آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے دیکھیں۔ اپنے آپ کو اصلاح کی نگاہ سے دیکھیں، مدح و تعریف کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔
برائی کو جاننے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ اگر دوسرا آپ کے ساتھ کرے تو آپ کو برا لگے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ دوسرے کے تعلق سے ایک کام کریں اور آپ کو ذرا خراب نہیں لگے، لیکن دوسرا آپ کے تعلق سے وہی کام کرے اور آپ کو بہت برا لگے۔ یہ خیر و شر کو جاننے کا ایک پیمانہ ہے جو اللہ تعالی نے انسانوں کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ آپ دوسروں کی غیبت کرتے ہوئے خوب لذت پاتے ہیں ، لیکن جب آپ کو خبر ملتی ہے کہ کسی نے آپ کی غیبت کی ہے تو آپ کو بہت خراب لگتا ہے اور آپ کے دل میں اس کے لیے نفرت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ غیبت ایک بڑی برائی ہے۔ غیبت کرنا بھی اور غیبت سننا بھی۔ لیکن یہ برائی اس طرح شخصیت کا حصہ بنی رہتی ہے کہ ادھر توجہ ہی نہیں جاتی۔ ایسی بے شمار برائیاں ہیں جو ہماری شخصیت کے درو دیوار پر تعفن کی طرح لگی ہوتی ہیں اور ہم انھیں رنگ و روغن سمجھ کر نظر انداز کررہے ہوتے ہیں۔ جس طرح شان دار محل کی دیواروں کا تعفن ان کے رنگ و روغن کو چھپالیتا ہے، اسی طرح شخصیت کو لاحق خرابیاں شخصیت کے حسن کو داغ دار کرتی ہیں۔ جس دن ہم نے اپنی شخصیت سے تعفن کو صاف کرنا شروع کردیا، شخصیت کی آب و تاب بڑھنے لگے گی۔
ماہِ رمضان بلندیوں پر لے جانا والا مہینہ ہے۔ ان بلندیوں تک پہنچنے اور ثابت قدمی کے ساتھ وہیں رک جانے کا عزم کریں۔ ماہِ رمضان کے بعد آپ کی الٹے پاؤں واپسی شروع نہ ہوجائے، اس کے لیے اپنی پرانی بیماریوں سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ماہِ رمضان کو ہماری فلاح کا مہینہ بنا دے۔
محی الدین غازی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نفسانی خواہشات اپنے ا پ کو خواہشات کو ہوسکتے ہیں مہینے میں اس کے لیے بھی قرا ن انسان کی خاص توجہ سے زیادہ کا مہینہ رمضان کے ا پ اپنے ملتا ہے ہوتا ہے کرتا ہے نگاہ سے ہے کہ ا کے بعد ہے اور بہت سی کی طرف کی صفت کی طرح اس لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔