آزاد کشمیر میں بروقت الیکشن کی راہ ہموار، غلام مصطفیٰ مغل نے چیف الیکشن کمشنر کا حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفٰی مغل نے بطور چیف الیکشن کمشنر آزادجموں وکشمیر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے ان سے حلف لیا۔
حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ بلڈنگ مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس میں ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی،انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی کے علاوہ سیکریٹریز، ڈسٹرکٹ جوڈیشری اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
قبل ازیں ڈرافٹسمین محکمہ قانون انصاف و پارلیمانی امور امجد علی منہاس نے جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفٰی مغل کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر چیف الیکشن کمشنر حلف غلام مصطفیٰ مغل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر حلف غلام مصطفی مغل چیف الیکشن کمشنر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔