جسٹس غلام مصطفی 5 سال کیلیے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) حکومت آزاد جموں و کشمیر نے چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل اور وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کی منظوری کے بعد ریٹائرڈ چیف جسٹس غلام مصطفیٰ مغل کو5 سال کے لیے چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا ہے۔وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تقرر صدر آزاد جموں و کشمیر کے حکم پر عمل میں لایا گیا، چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گزشتہ سال 13 جنوری سے خالی تھا، جب سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالرشید سلہریا کی مدت مکمل ہوئی تھی۔جسٹس غلام مصطفیٰ مغل جن کی عمر 70 برس سے زائد ہے، ماضی میں بھی یہ عہدہ سنبھال چکے ہیں، فروری 2016ء میں بطور چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ انہیں 3 سالہ مدت کے لیے اضافی ذمے داری کے طور پر چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن چیف الیکشن کمشنر، سینئر رکن اور ایک رکن پر مشتمل ہوتا ہے، نئے تقرر کے باوجود سینئررکن الیکشن کمیشن کی نشست تاحال خالی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔