اسلام آباد میں ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آئی جی اسلام آباد کے حکم پر تشدد میں ملوث تمام پولیس اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں۔

تھانہ مارگلہ کی حدود میں شہریوں پر تشدد کی وائرل ویڈیو کا معاملہ۔۔

آئی جی سید علی ناصر رضوی کا شہریوں پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن۔ آئی جی اسلام آباد نے شہریوں پر تشدد میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا۔

فیڈرل کیپیٹل اسلام اباد پولیس…

— Islamabad Police (@ICT_Police) February 19, 2026

پولیس کے مطابق واقعہ اسلام آباد کے علاقے ایف ایٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں اہلکاروں نے شہری اور اس کی بیوی کو ان کے گھر کے باہر روکا اور شناختی کارڈ چیک کرانے کا کہا۔ اس دوران اہلکاروں اور میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں نے شہری کو اس کی بیوی کے سامنے پیٹ ڈالا، آئی جی کا نوٹس، تمام اہلکار معطل، بتایا جا رہا ہے شہری کی جانب سے شناختی کارڈ نہ دکھانے پر تلخ کلامی ہوئی۔۔!! pic.

twitter.com/sTtgoZIudJ

— Khurram Iqbal (@khurram143) February 20, 2026

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار میاں بیوی پر تشدد کر رہے ہیں جبکہ ویڈیو بنانے والے نے کہا کہ اہلکار گھر میں داخل ہو کر ہمیں دہشتگردوں کی طرح مار رہے ہیں اور خواتین کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے واقعہ کی شدید مذمت کی۔ مقدس فاروق اعوان نے کہا کہ ’اسلام آباد پولیس بھی پنجاب پولیس کی طرح اپنا نام روشن کر رہی ہے‘۔

اسلام آباد پولیس بھی پنجاب پولیس کی طرح اپنا نام خوب روشن کر رہی ہےpic.twitter.com/VYztn6Y5zX

— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) February 19, 2026

محمد عثمان بٹ کا کہنا تھاکہ ڈولفن اہلکاروں نے پختون فیملی کو ان کے گھر کے باہر روکا، شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے بدتمیزی کی اور کہا کہ تم لوگ دہشتگرد ہو اور راولپنڈی سے آئے کم عمر مہمان کا برتھ سرٹیفیکیٹ بھی مانگا جس پر لڑائی جھگڑا ہوا۔

وفاقی پولیس کی اخلاقیات صرف سوشل میڈیا تک محدود۔
ڈولفن اہلکاروں نے پختون فیملی کو ان کے گھر کے باہر روکا شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے بدتمیزی کی اور کہا کہ تم لوگ دہشتگرد ہو اور راولپنڈی سے آئے کم عمر مہمان کا برتھ سرٹیفیکیٹ بھی مانگا جس پر لڑائی جھگڑا ہوا۔۔ڈولفن اہلکاروں کی جانب سے… pic.twitter.com/ncJIWfbfI5

— M.UsmanButt (@UsmanbuttJr) February 19, 2026

کئی صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ محافظوں کے نام پر دھبے ہیں۔ تو کوئی یہ کہتا نظر آیا کہ اس ملک کو کیا بنا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس اہلکار پولیس تشدد ڈولفن پولیس ویڈیو وائرل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس اہلکار پولیس تشدد ڈولفن پولیس ویڈیو وائرل پولیس اہلکار اہلکاروں نے شناختی کارڈ اسلام آباد میاں بیوی کہا کہ

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں