کراچی: سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ نے درسی کتب کی اشاعت کا مقررہ ہدف کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے تعلیمی سال 27-2026 کے لیے 52 لاکھ درسی کتب کے سیٹس تیار کر لیے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کتب کی تقسیم کے عمل کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے پہلے روز ہر طالب علم کے ہاتھ میں نئی کتاب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بچوں پر نصابی بوجھ کم کرنے اور معیاری تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کی مشاورت سے درسی کتب کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے زیرِ اہتمام کراچی کے گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری اسکول، نیلم کالونی، کلفٹن میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ نے تعلیمی سال 27-2026 کے لیے “شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹیکسٹ بک سیریز” کے تحت ارلی چائلڈ ایجوکیشن کلاس سے لے کر دسویں جماعت تک نصابی کتب کی اشاعت مکمل کی ہے، جبکہ دسویں جماعت تک مجموعی طور پر 195 ٹائٹلز شائع کیے گئے ہیں۔ کتب کو سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر تعلیم نے درسی کتب کی بروقت اشاعت پر سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذ پر ٹیکس میں اضافے اور دیگر مشکلات کے باوجود مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے کتب کی اشاعت کا عمل بروقت مکمل کیا گیا، جس سے طلبہ کو بروقت تعلیمی سہولت میسر آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں اور آئندہ تعلیمی سال سے نصابی کتب میں تبدیلیاں کی جائیں گی.

تاکہ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سابق دورِ حکومت میں سنگل نیشنل کریکولم کے نفاذ پر زور دیا گیا تھا. جس کی سندھ نے واضح اور دوٹوک مخالفت کی۔ آج اس مؤقف کی درستگی ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اب دیگر صوبے بھی مادری زبان کو بطور مضمون شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ سندھ نے یہ اصولی موقف پہلے ہی اختیار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین میں مفت تعلیم کی ضمانت دی گئی ہے، لہٰذا بچوں کو نصابی کتب کی مفت فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے درسی کتب کی ترسیل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جو یکم اپریل تک مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ ڈی ای اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کتب کی بروقت اسکولوں تک فراہمی کو یقینی بنائیں۔اس موقع پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے کہا کہ یونیسکو نے سندھ کے نصاب کو “موسٹ انکلوسو” قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نصاب کو “لرننگ ٹو ارننگ” مکینزم کے مطابق بنانے کے لیے کام جاری ہے تاکہ بچوں کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سندھ ٹیکسٹ ب ک بورڈ تعلیمی سال نے کہا کہ کی اشاعت انہوں نے درسی کتب کے لیے کتب کی

پڑھیں:

سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن