بکنگھم پیلس نے  شاہ چارلس سوئم کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کی پولیس تحویل سے رہائی کے بعد پہلا باضابطہ ردعمل جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کو حساس معلومات دینے کا شبہ، شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی گرفتار

برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ اینڈریو کو تھیمز ویلی پولیس نے سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار کیا تھا، تاہم تقریباً 11 گھنٹے کی تفتیش کے بعد انہیں پولیس اسٹیشن سے رہا کردیا گیا۔

گرفتاری کے بعد بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کنگ چارلس سوئم نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی مکمل اور منصفانہ تحقیقات متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جائیں گی اور شاہی خاندان قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

دوسری جانب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کی رہائی سے چند گھنٹے قبل کنگ چارلس سوئم نے لندن فیشن ویک 2026 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے برطانوی فیشن سے متعلق مختلف نمائشوں کا دورہ کیا اور ڈیزائنرز سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کو خفیہ دستاویزات دینے کا الزام، سابق پرنس اینڈریو کی ’زیرِ تفتیش‘ رہائی

واضح رہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے اس سے قبل بھی ان کے بطور تجارتی نمائندہ کردار اور بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے مبینہ روابط کے حوالے سے تحقیقات کی جا چکی ہیں، جبکہ گزشتہ سال ان سے شاہی اعزازات اور سرکاری ذمہ داریاں بھی واپس لے لی گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر برطانیہ جیفری ایپسٹین رہائی شاہ چارلس سوئم شاہی خاندان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر برطانیہ جیفری ایپسٹین رہائی شاہ چارلس سوئم شاہی خاندان اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر جیفری ایپسٹین چارلس سوئم کے بعد

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا