ملین سال پرانی موسمی تبدیلی اور انسانی ارتقا کے درمیان اہم تعلق دریافت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 2.7 ملین سال قبل زمین پر آنے والی بڑی موسمی تبدیلی انسانی ارتقا سے گہرا تعلق رکھتی ہے، جس نے ابتدائی انسانوں کی نشوونما اور بقا پر اہم اثرات مرتب کیے۔
یہ تحقیق برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین کی ٹیم نے کی، جنہوں نے پرتگال کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے حاصل ہونے والے مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کر کے گزشتہ 5.
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں واقع قدیم آثار، خطے کے شاندار ماضی کے آئینہ دار
تحقیق کے نتائج کے مطابق تقریباً 2.7 ملین سال پہلے زمین کا موسم اچانک غیر مستحکم ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں شمالی نصف کرہ میں برفانی چادریں پھیل گئیں اور شدید سردی کی لہریں شروع ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے بعد زمین کے موسم میں ہزاروں سال کے وقفوں سے تیزی سے تبدیلیاں آتی رہیں۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسی دور میں انسان کی ابتدائی نسل، یعنی جینس ہومو، کا ظہور ہوا۔ ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلیوں نے ابتدائی انسانوں کو بدلتے ماحول کے مطابق ڈھلنے، زیادہ ذہانت اور بہتر صلاحیتیں پیدا کرنے پر مجبور کیا، جو انسانی ارتقا میں اہم ثابت ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی میں 5 ہزار سال پرانے برتن دریافت، ابتدائی ادوار میں خواتین کے نمایاں کردار پر روشنی
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق اس دریافت سے زمین کی موسمی تاریخ اور انسانی ارتقا کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسمی تبدیلیاں نہ صرف زمین کے ماحول بلکہ انسان کی ارتقائی تاریخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پرتگال تاریخی ارتقا سائنسدان موسمی تبدیلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرتگال تاریخی ارتقا موسمی تبدیلی ملین سال کے مطابق
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔