کیا بچپن کا موٹاپا زندگی بھر کے خطرے کی علامت ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
کم عمری میں وزن کا بڑھ جانا ہمیشہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ بچہ پوری زندگی موٹاپے کا شکار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیزی سے بڑھتا موٹاپا، عوام اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی عمر میں وزن میں اضافہ بعض اوقات جینیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے جو بعد کی زندگی میں لازمی طور پر موٹاپے کا سبب نہیں بنتے۔
6 ہزار سے زائد بچوں پر تحقیقیہ تحقیق برطانیہ کے معروف منصوبے ’چلڈرن آف دی 90‘ کے تحت کی گئی جس میں 6,291 بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ اس منصوبے کا آغاز سال 1991 اور 1992 میں پیدا ہونے والے تقریباً 14,500 بچوں کی طویل مدتی نگرانی سے ہوا تھا۔
آسٹریلیا کے ماہرین نے ماڈلنگ تکنیک کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ ایک سے 18 سال کی عمر تک بچوں کے جسمانی وزن میں تبدیلی پر جینیاتی عوامل کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
جینیاتی عوامل مختلف عمروں میں مختلف اثراتیونیورسٹی آف کوئنزلینڈ سے وابستہ ڈاکٹر گینگ وانگ کے مطابق والدین اکثر اس وقت پریشان ہو جاتے ہیں جب بچہ کم عمری میں وزن بڑھا لے یا دوسروں سے مختلف انداز میں نشوونما پائے لیکن ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ان تبدیلیوں میں جینیاتی فرق اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیرخوار بچوں کے جسمانی حجم پر اثر انداز ہونے والے جینیاتی عوامل، نوعمری میں وزن پر اثر ڈالنے والے عوامل سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق کم عمر بچوں میں جسمانی حجم کا فرق مستقبل میں لازمی طور پر موٹاپے کے خطرے کی عکاسی نہیں کرتا۔
10 سال کی عمر کے بعد خطرات بڑھ سکتے ہیںیہ تحقیق جو آن لائن جرنل ’نیچر کمیونیکیشنز‘ میں شائع ہوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تقریباً 10 سال کی عمر کے بعد باڈی ماس انڈیکس اور ایک سے 18 سال تک مجموعی نشوونما کی رفتار بعد کی زندگی میں ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کی بیماریوں سے زیادہ واضح تعلق رکھتی ہے۔
مزید پڑھیے: کیا موٹاپا، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی ڈیمنشیا کی وجہ بن سکتے ہیں؟
منصوبے کے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر نکولس ٹمپسَن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ایک سے 18 سال کی عمر تک باڈی ماس انڈیکس میں تبدیلی اور مختلف عمروں میں اس کی اوسط سطح کے ساتھ جینیاتی تعلق کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
آئندہ تحقیق کی ضرورتڈاکٹر نکول وارننگٹن نے کہا کہ مستقبل میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ موٹاپے یا کمزور نشوونما کی روک تھام کے لیے کون سی عمر سب سے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟سال2024/2025 کے قومی اعداد و شمار کے مطابق 4 سے 5 سال کے بچوں میں 10.
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا کے پہلے سال کے عروج کو چھوڑ کر ریسیپشن کلاس کے بچوں میں موٹاپے کی شرح 2006/07 کے بعد سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی ہے اور یہ گزشتہ سال کی 9.6 فیصد شرح سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: موٹاپا اور شوگر کا خطرہ، چاول پکانے سے پہلے ضرور کریں یہ کام
تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بچپن میں وزن میں اضافہ ہمیشہ زندگی بھر کے موٹاپے کی پیش خیمہ نہیں کرتا۔ جینیاتی عوامل مختلف عمروں میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ابتدائی عمر میں وزن بڑھنے کو لازمی خطرہ تصور کرنا درست نہیں۔ تاہم بڑی عمر میں باڈی ماس انڈیکس اور مجموعی نشوونما کی رفتار صحت کے طویل المدتی نتائج پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچپن بچپن کا موٹاپا موٹے بچے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔