پاکستان کے خلاف کھیلنے کا تجربہ ہے، ٹیم کے حکمت عملی واضح ہے: مارک چیپمین
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سُپر ایٹ مرحلے کا آغاز کولمبو میں کل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین شاندار مقابلے سے ہو گا، جہاں دونوں ٹیمیں عالمی کرکٹ کے معرکے میں اپنے حریف کو زیر کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
نیوزی لینڈ کے تجربہ کار کرکٹر مارک چیپمین نے پریس کانفرنس میں پاکستان کے خلاف اپنی ٹیم کی حکمت عملی اور اس خطے کی کنڈیشنز پر روشنی ڈالی۔
مارک چیپمین کا کہنا تھا کہ کولمبو کی پچز اور موسمی حالات ٹاس کے فیصلے کو انتہائی اہم بنا دیتے ہیں، نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو اس خطے میں کھیلنے کا کافی تجربہ حاصل ہے، جس کی بدولت وہ مقامی کنڈیشنز کا بخوبی جائزہ لے سکتے ہیں۔
انہوں نے انڈین پچز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بیٹرز کو آسانی رہی مگر بولرز کے لیے چیلنجز زیادہ تھے اور اس لحاظ سے اسپنرز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
مارک چیپمین نے پاکستان کی بولنگ لائن اور اسپنرز کی صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کے اسپنرز ہر میچ میں خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ نے پاکستان کے ساتھ سب سے زیادہ مقابلے کیے ہیں، اس لیے ٹیم کو اندازہ ہے کہ کون سا پلان کس صورتحال میں کام آئے گا۔
کیوی کرکٹر نے اسپنرز کے خلاف حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ بیٹنگ کے دوران مختلف شاٹس پلان کرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کے پاس بھی ایسے بولرز موجود ہیں جو اس طرح کی کنڈیشنز میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
مارک چیپمین نے ٹیم کے جوش و ولولے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میچل سینٹنر کل کے میچ میں بہترین کارکردگی کے لیے پرجوش ہیں، اور لوکی فرگوسن بھی دوبارہ ٹیم میں شامل ہو رہے ہیں، تاہم پلیئنگ الیون میں ان کی شمولیت کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ کے مارک چیپمین پاکستان کے کہا کہ
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :