سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مسجد نبوی ﷺ میں حاضری، روضہ رسول ﷺ پر نماز ادا کی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں حاضری دی، جہاں انہوں نے روضۂ رسول ﷺ کے قریب ریاض الجنہ میں نماز ادا کی اور رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقائے کرام کو سلام پیش کیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق ولی عہد کی مسجد نبوی آمد پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس، وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ اور مسجد نبوی کے ائمہ کرام نے ان کا استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی ممالک کی شاہ سلمان اور ولی عہد کو رمضان المبارک کی مبارکباد
اس موقع پر مدینہ ریجن کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان، وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان، ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن سمیت متعدد اعلیٰ حکام اور وزرا بھی ولی عہد کے ہمراہ موجود تھے۔
ولی عہد کی یہ حاضری مدینہ منورہ کے دورے کا اہم حصہ تھی، جس کے دوران انہوں نے مسجد نبوی میں عبادت کی سعادت حاصل کی اور مقدس مقام پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار کیا۔
محمد بن سلمان سے علما، شہزادوں اور شہریوں کی ملاقات، رمضان کی مبارکباد پیشسعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے علما، شہزادوں، وزرا اور شہریوں نے قصر الیمامہ میں ملاقات کی اور انہیں ماہ رمضان کی آمد پر مبارکباد پیش کی۔
استقبالیہ تقریب کے آغاز میں شرکا نے قرآن پاک کی تلاوت سنی، جس کے بعد ولی عہد نے مہمانوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ رمضان کی مبارکباد کا تبادلہ کیا۔
ولی عہد نے اس موقع پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے روزے، قیام اور نیک اعمال قبول فرمائے اور سعودی عرب کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں امن اور استحکام نصیب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان میں بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ، علما و مشائخ کی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی اپیل
اس تقریب میں بڑی تعداد میں شاہی خاندان کے افراد، سینئر علما، اعلیٰ حکام اور شہری شریک ہوئے، جنہوں نے ولی عہد سے ملاقات کر کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news روضہ رسول سعودی عرب محمد بن سلمان مسجد نبوی نماز ولی عہد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: روضہ رسول مسجد نبوی ولی عہد مسجد نبوی ولی عہد کی اور
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔