شاہ سلمان نے اعضا عطیہ کرنے والے 200 افراد کو کنگ عبدالعزیز میڈل دینے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے 200 مرد و خواتین شہریوں کو ان کے اہم انسانی اقدام کے اعتراف میں کنگ عبدالعزیز میڈل (تیسری کلاس) دینے کی منظوری دے دی۔ یہ اعزاز ان افراد کو دیا جائے گا جنہوں نے زندہ یا دماغی موت کے بعد اپنے اعضا عطیہ کیے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا
یہ تازہ شاہی فرمان اُن قومی اقدامات کا تسلسل ہے جن کے تحت زندگی کا تحفہ دینے والے شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران شاہ سلمان 2,500 سے زائد شہریوں کو ان کی جان بچانے والی خدمات پر یہ باوقار تمغہ عطا کر چکے ہیں۔
حال ہی میں نشر ہونے والی ایک ٹی وی رپورٹ میں اس جاری قومی مہم کو اجاگر کیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ مملکت اپنے شہریوں اور سوگوار خاندانوں کی غیر معمولی قربانیوں کو کیسے سراہتی ہے اور ملک بھر میں اعضا عطیہ کرنے کی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے۔
سعودی عرب میں اعضا عطیہ کرنے کے پروگرام میں عوامی شرکت اور شعور میں نمایاں اضافہ مئی 2021 میں دیکھنے میں آیا، جب شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے باضابطہ طور پر خود کو اعضا عطیہ کرنے والوں کے طور پر رجسٹر کرایا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ
قومی ڈونر پروگرام کا انتظام سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے تحت کیا جاتا ہے۔ شاہ سلمان نے 1984 میں اس ادارے کے پیش رو کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کا مقصد گردوں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کی تکالیف کم کرنا تھا۔ بعد ازاں اس پروگرام کو وسعت دے کر دل، جگر، پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کی پیوندکاری تک پھیلا دیا گیا، تاکہ آخری مرحلے کے اعضا فیل ہونے والے مریضوں کو نئی زندگی دی جا سکے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری میں ہے، سعودی سفیر
مزید حوصلہ افزائی کے لیے سعودی عرب کی قومی ایپ توکلنا میں بھی ایک ڈیجیٹل اعزازی نظام شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت رجسٹرڈ ڈونرز کے پروفائل پر سونے، چاندی یا کانسی کے بیجز ظاہر کیے جاتے ہیں، تاکہ انہیں اخلاقی سپورٹ اور سماجی سطح پر اعتراف فراہم کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کنگ عبدالعزیز میڈل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کنگ عبدالعزیز میڈل کنگ عبدالعزیز میڈل اعضا عطیہ کرنے شاہ سلمان
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔