رانا شوکت کی جانب سے دھمکیوں کے الزامات پر شارق جمال کا مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی اجلاس میں رانا شوکت کی جانب سے دھمکیوں کے الزامات کے معاملے پر شارق جمال کا مؤقف سامنے آگیا۔
ایم کیو ایم رکن شارق جمال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ آپس کا معاملہ ہے، رانا شوکت کو روزہ لگا تھا۔
شارق جمال نے مزید کہا کہ ہمارا معاملہ تھا، ختم ہوگیا، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم رکن رانا شوکت نے اپنے ساتھی اراکین پر قتل کی دھکیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔
ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رانا شوکت نے اپنے ساتھی شارق جمال پر قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے شارق جمال نے دھمکی دی ہے۔
رانا شوکت کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ پرانی پی ایس پی کا ایم این اے ہے، اقبال محسود نے بھی مجھے دھمکی دی ہے، انہوں نے کہا کہ میں خالد مقبول گروپ سے تعلق رکھتا ہوں، مجھے دھمکی دی گئی کہ باہر نکلو دیکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رانا شوکت شارق جمال کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔