حفیظ الرحمن کی جانب سے ہنزہ اور غذر کو ریاست مخالف عناصر سے جوڑنے کی کوشش غیر ذمہ دارانہ ہے، ثوبیہ مقدم
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سابق صوبائی وزیر و سینئر رہنما پیپلز پارٹی گلگت بلتستان ثوبیہ جے مقدم نے حفیظ الرحمن کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنزہ پاکستان کا نرم اور مثبت چہرہ ہے، جبکہ غذر گلگت بلتستان کا ایک پُرامن ضلع اور شہداء کی سرزمین ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق صوبائی وزیر و سینئر رہنما پیپلز پارٹی گلگت بلتستان ثوبیہ جے مقدم نے حفیظ الرحمن کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنزہ پاکستان کا نرم اور مثبت چہرہ ہے، جبکہ غذر گلگت بلتستان کا ایک پُرامن ضلع اور شہداء کی سرزمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کی جانب سے مبینہ طور پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ہنزہ اور غذر کو ریاست مخالف عناصر سے جوڑنے کی کوشش نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ زمینی حقائق کے بھی منافی ہے۔ ثوبیہ جے مقدم نے واضح کیا کہ ہنزہ اور غذر کے باشعور عوام ریاست مخالف نہیں بلکہ امتیازی سلوک کے خاتمے، میرٹ، انصاف اور شفاف حکمرانی کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناقص طرز حکمرانی، محدود روزگار کے مواقع اور میرٹ کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے، جسے کسی صورت ریاست دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان دونوں اضلاع کے عوام نے دفاعِ پاکستان میں لازوال قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ گلگت بلتستان اور ملک کا روشن اور مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ہنزہ اور غذر سیاحت، ثقافت، تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے مثالی حیثیت رکھتے ہیں، جو قومی یکجہتی اور ترقی کے عمل کو مضبوط بناتے ہیں۔ قاری حفیظ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہنزہ بجا طور پر پاکستان کا سافٹ امیج کہلانے کا حق رکھتا ہے۔ ایک پُرامن، ترقی پسند اور باوقار خطہ جو قومی استحکام کیلئے ہمیشہ پرعزم رہا ہے۔ جبکہ غذر قربانی اور حب الوطنی کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات علاقائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور انہیں ہر سطح پر مسترد کیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان ہنزہ اور غذر انہوں نے کہ ہنزہ کہا کہ
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔