کانگریس رکن پارلیمنٹ نے امریکہ میں اڈانی سے متعلق مقدمات اور ایپسٹین معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ فائلیں منظرعام پر نہیں لائی گئیں، جن میں اہم نام شامل ہوسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر اور کانگریس کے سینیئر لیڈر راہل گاندھی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر وزیراعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان زیادہ مراعات دے رہا ہے جبکہ بدلے میں کم فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال امریکہ کے سامنے مکمل طور پر جھک جانے کے مترادف ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران جیو جِتسو کھیل کی مثال دی تھی، کیونکہ اس کھیل میں حریف کو قابو میں کرنے کے لیے دباؤ اور گرفت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں بھی ایسے ہی دباؤ ہوتے ہیں جو عوام کو نظر نہیں آتے مگر فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسانوں کے مفادات کو نظرانداز کیوں کیا گیا، امریکہ سے تیل اور دیگر اشیاء کی زیادہ خریداری پر رضامندی کیوں ظاہر کی گئی اور ہر سال ایک سو ارب ڈالر کے اضافی درآمدات کی بات کیوں مانی گئی۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ملک کا ڈیٹا غیر ملکی کمپنیوں کو دینے کا فیصلہ تشویشناک ہے اور اس سے ہندوستان ایک "ڈیٹا کالونی" میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معلومات کم قیمت پر امریکی کمپنیوں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔

راہل گاندھی نے امریکہ میں اڈانی سے متعلق مقدمات اور ایپسٹین معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ فائلیں منظرعام پر نہیں لائی گئیں، جن میں اہم نام شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مختلف قسم کے بیرونی اور داخلی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایک جانب امریکہ کا دباؤ ہے تو دوسری طرف چین سرحد پر کشیدگی موجود ہے اور انہی حالات میں یہ معاہدہ طے پایا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس تجارتی معاہدے سے کسانوں، ٹیکسٹائل صنعت اور مجموعی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیئے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل